محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان بلوچستان میں 2 ارب 15 کروڑ روپے کے فنڈز کی مبینہ بے ضابطگیاں ، اینٹی کرپشن نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ریکارڈ طلب

کھیلوں کے مقابلوں کے نام پر فنڈز کے غلط استعمال اور کرپشن کی شکایات، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس سے 2024 سے 2026 کا تمام تصدیق شدہ ریکارڈ طلب


کوئٹہ(قدرت روزنامہ) محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان حکومت بلوچستان میں مالی سال 2024 سے 2026 کے دوران تقریباً 2 ارب 15 کروڑ روپے (2.15 بلین) کے مبینہ غلط استعمال، خرد برد اور بے قاعدگیوں پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف انکوائریز اینڈ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کوئٹہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (انویسٹی گیشن) کی جانب سے 28 ستمبر 2026 کو ڈائریکٹر جنرل محکمہ کھیل و امور نوجوانان کو باضابطہ مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔ مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے افسران اور اہلکاروں کے خلاف کھیلوں کے ایونٹس کے انعقاد کے لیے مختص فنڈز میں کرپشن اور غبن کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایت پر ابتدائی انکوائری جاری ہے۔
معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے اینٹی کرپشن نے محکمہ کھیل سے 9 مختلف اقسام پر مشتمل تصدیق شدہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ مطلوبہ ریکارڈ میں درج ذیل دستاویزات شامل ہیں:
2024 سے 2026 تک کے تمام منظور شدہ ایونٹس کی فہرست۔
انتظامی منظوری اور مالیاتی منظوری کی دستاویزات۔
بجٹ الاٹمنٹ اور ریلیز آرڈرز۔
آرگنائزنگ کمیٹیوں کے نوٹیفکیشنز۔
میٹنگز کے منٹس۔
بلز پر مشتمل ادا شدہ واؤچرز۔
اے جی آفس کی ری کنسیلی ایشن (مفاہمت)۔
خریداری (پروکیورمنٹس) کی مکمل تفصیلات۔
ٹینڈر ڈاکومنٹس۔
خط کی کاپی سیکریٹری سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز بلوچستان اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کو بھی ارسال کی گئی ہے۔

WhatsApp
Get Alert