پشتونخوا وطن کی ملی وحدت کو سیاسی و انتظامی تقسیم کے ذریعے پارہ پارہ کیا گیا:دہشت گردی و بدامنی نے عوام کی زندگی اور معیشت مفلوج کر دی، مرضی کے خلاف مسلط کی گئی پالیسیاں ناقابل قبول: پشتونخوا نیپ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ): پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی غوث آباد لوڑ کاریز علاقائی کانفرنس کا بند اجلاس پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی زیرِ صدارت احمدان سکیم غوث آباد منعقد ہوا، جس میں علاقہ بھر سے پارٹی کے سینکڑوں مندوبین، کارکنوں اور عہدیداروں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری علی محمد ترین، عبدالرزاق خان بڑیچ، عبید اللہ توخی ضلع معاون سیکریٹری محمد رسول ترین، سید عبداللہ آغا، عصمت اللہ ترین، ضلع کمیٹی کے اراکین گل شاہین، فرید کمال، ضلع معاون سیکریٹری امین اللہ کاکڑ ،روزی خان خلجی اور حافظ سلام بڑیچ اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کی سیکریٹری کے فرائض ضلع سینئر معاون سیکریٹری ندا سنگر نے انجام دیے۔کانفرنس کے آغاز میں علاقائی سینئر معاون سیکریٹری منیر احمد خپلواک نے گزشتہ تین سال کی تنظیمی و سیاسی کارکردگی پر مشتمل تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں علاقائی تنظیم کی گزشتہ تین سال کے دوران سیاسی، تنظیمی اور عوامی سرگرمیوں، پارٹی پروگراموں اور تنظیمی پیش رفت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ کانفرنس کے سینکڑوں مندوبین نے رپورٹ کا جائزہ لیا اور بحث و مباحثے کے بعد اسے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔بعد ازاں غوث آباد لوڑ کاریز کے لیے نئے علاقائی ایگزیکٹو کا انتخاب عمل میں لایا گیا، جس کے مطابق حاجی نقیب اللہ مہربان کو علاقائی سیکریٹری، منیر احمد خپلواک کو سینئر معاون سیکریٹری جبکہ گل شاہین، شاہ جہان ترین، ڈاکٹر طاہر شہاب، محمد اسماعیل ہاشمی، حاجی شاہ آغا، بشیر احمد وردک، جمعہ خان پوپلزی حمید اللہ، نور آغا مسلم یار، حاجی حبیب اللہ اور حفیظ جان کو علاقائی ایگزیکٹو کے اراکین منتخب کیا گیا۔ نومنتخب عہدیداروں سے پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے حلف لیا۔ کانفرنس کے کھلے اجلاس سے پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے صوبای ڈپٹی سیکریٹری عبیداللہ توخی، ضلع معاون سیکریٹری عصمت اللہ ترین، صوبائی ڈپٹی سیکریٹری علی محمد ترین، ڈاکٹر فضل اللہی پتمن، گل شاہین اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا، جبکہ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت شاہ آغا نے حاصل کی۔ کانفرنس کے آغاز میں پارٹی کا ملی ترانہ پیش کیا گیا، جس کے احترام میں شرکاء کھڑے ہوگئے، جبکہ ڈاکٹر طاہر شہاب نے اپنا شعر بھی پیش کیا۔مقررین نے کامیاب اور بھرپور علاقائی کانفرنس کے انعقاد پر سابقہ علاقائی کابینہ، منتظمین، کارکنوں اور مندوبین کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ غوث آباد کوٹ کاریز جیسے اہم علاقے میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی علاقائی کانفرنس میں سینکڑوں مندوبین کی بھرپور شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ علاقہ آج بھی پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنوں کی منظم شرکت اور سیاسی شعور اس بات کی علامت ہے کہ عوام اپنے قومی، سیاسی، جمہوری اور معاشی حقوق کے حصول کے لیے منظم سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔مقررین نے کہا کہ دنیا بھر کی تاریخ گواہ ہے کہ منظم سیاسی جماعتوں اور مضبوط تنظیموں کے ذریعے قوموں نے اپنی قومی خودمختاری، حقیقی جمہوریت، سیاسی و جمہوری اختیار اور عوام کے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کو کامیاب بنایا۔ سیاسی تنظیم کسی بھی قومی تحریک کی بنیاد ہوتی ہے اور منظم کارکن ہی سیاسی جدوجہد کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھا سکتے ہیں۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی بھی اپنے نظریات، آئین اور منشور کی بنیاد پر تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بناتے ہوئے علاقائی، ضلعی اور صوبائی سطح پر کامیاب کانفرنسوں کے ذریعے پارٹی کو مزید منظم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن اس وقت سیاسی، معاشی، سماجی اور امن و امان کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ پشتونخوا وطن کی ملی وحدت کو مختلف انتظامی اور سیاسی تقسیموں کے ذریعے پارہ پارہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پشتون قوم کو اپنے اجتماعی سیاسی، معاشی اور قومی حقوق کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی پشتون قوم کی ملی وحدت، قومی شناخت، جمہوری حقوق، صوبائی خودمختاری اور عوام کے حقِ حکمرانی کے لیے اپنی اصولی جدوجہد جاری رکھے گی۔مقررین نے کہا کہ پشتونخوا وطن میں دہشت گردی اور بدامنی نے عوام کی زندگی، کاروبار، تعلیم اور معاشی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی اور بدامنی کے نتیجے میں اس خطے کے عوام کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہے اور اس صورتحال کے خاتمے کے لیے پائیدار امن، سیاسی استحکام اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن کے وسائل اور قدرتی دولت پر عوام کا حق تسلیم کیا جائے اور کسی بھی قسم کی پالیسی عوام کی مرضی اور مفاد کو نظرانداز کرکے مسلط نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ پشتون قوم کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے باہمی اتحاد اور سیاسی تنظیم کو مضبوط بنانا ہوگا۔ قومی وحدت کسی بھی قوم کی ترقی اور بقا کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اپنے کارکنوں کو منظم کرکے جمہوری اور سیاسی جدوجہد کو مزید وسیع کرے گی۔مقررین نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قوموں کی ترقی کا بنیادی ذریعہ علم اور تعلیم ہے۔ پشتونخوا وطن میں تعلیمی پسماندگی کے خاتمے، اسکولوں اور تعلیمی اداروں کی بہتری اور نئی نسل کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے والدین اور سیاسی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں کیونکہ علم اور شعور ہی کے ذریعے نوجوان نسل اپنے قومی، سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق کو بہتر طور پر سمجھ کر ان کے حصول کے لیے مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔مقررین نے کہا کہ کامیاب علاقائی کانفرنسیں پارٹی کے تنظیمی سفر میں اہم سنگِ میل ہیں اور غوث آباد لوڑ کاریز کی کانفرنس نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ مضبوط تنظیم، فعال کارکن اور سیاسی شعور ہی پارٹی کو عوام کے درمیان مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے نومنتخب علاقائی ایگزیکٹو کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نئی کابینہ پارٹی کے آئین، منشور اور تنظیمی فیصلوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دے گی اور علاقے کے عوام کے مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کی سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں کو مزید فعال بنائے گی۔
