حکومت مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری اپوزیشن پر عائد نہ کرے، تحریک انصاف

اسلام آ باد(قدرت روزنامہ) پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری اپوزیشن پر عائد نہ کرے اور یہ بتائے عمران خان تک فوری رسائی کیوں ناقابل قبول قرار دی؟ خیبر پختونخوا میں وسیع مشاورت پر مبنی سکیورٹی حکمت عملی کیوں قبول نہیں کی؟
مذاکرات سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ ہمارے اور حکومتی مذاکرات بغیر کسی خاطر خواہ پیش رفت کے ختم ہوئے، مذاکرات میں بنیادی ڈیڈ لاک بانی پی ٹی آئی عمران خان تک فوری رسائی کے معاملے پر رہا، حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قیادت کو عمران خان سے فوری مشاورت کی اجازت دی جائے۔
پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ عمران خان سے مشاورت قومی اور سیاسی معاملات پر فیصلہ سازی کے لیے ضروری ہے، حکومت نے عمران خان تک رسائی کو معاہدے کا حصہ بنانے سے انکار کیا، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال بھی مذاکرات میں اہم معاملہ رہی، دہشت گردی کا خاتمہ، شہریوں کا تحفظ اور پائیدار امن قومی ترجیح ہونی چاہیے۔
تحریک انصاف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید فوجی، پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے باعث جانی نقصان اور نقل مکانی کی بھاری قیمت ادا کی، انسداد دہشت گردی پالیسی میں خیبر پختونخوا کے عوام کے تحفظات اور تجربات کو مرکزی حیثیت دی جائے، دہشت گردی صرف طاقت یا یک طرفہ اقدامات سے ختم نہیں کی جا سکتی، وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے نمائندے 72 گھنٹے میں مشترکہ انسداد دہشت گردی حکمت عملی بنائیں۔
پی ٹی آئی نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں موجود سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین سے بھی مشاورت کی جائے، بانی پی ٹی آئی تک رسائی ہوتی تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ان سے سکیورٹی پالیسی پر براہ راست مشاورت کرسکتے تھے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ عمران خان کی صحت اور طبی علاج کا معاملہ بھی مذاکرات میں اٹھایا گیا، انہیں شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے اور مناسب میڈیکل بورڈ بنانے کا مطالبہ کیا گیا، حکومت نے منگل سے بانی پی ٹی آئی سے اہل خانہ اور وکلا کی ملاقاتیں بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کی، خاندان اور وکلا سے ملاقات طبی معائنے اور ضروری علاج کا متبادل نہیں، بانی پی ٹی آئی کی صحت کو سنجیدگی، شفافیت اور انسانی ہمدردی کے ساتھ دیکھا جائے
پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری مکمل طور پر اپوزیشن پر ڈالنے سے گریز کرے، حکومت بتائے بانی پی ٹی آئی تک فوری رسائی کیوں ناقابل قبول قرار دی گئی؟ حکومت بتائے خیبر پختونخوا میں وسیع مشاورت پر مبنی سکیورٹی حکمت عملی کیوں قبول نہیں کی گئی؟ پی ٹی آئی سیاسی مذاکرات، آئینی عمل اور قومی اتفاق رائے کے لیے تیار ہے، مذاکرات پیشگی شرائط یا غیر مشروط حمایت کے مطالبے سے کامیاب نہیں ہو سکتے۔
