اسلام آباد ناکام ہوچکا ہے تو اس کو تھرپارکر کے حوالے کردیں، بلاول بھٹو زرداری
جیسی ترقی تھرپارکر میں ہے، ویسی پورے ملک میں کہیں دکھائی نہیں دیتی، پورا پاکستان یہ دیکھ کر حیران ہے کہ تھر کہاں سے کہاں پہنچ گیا، کچھ عناصر کو یہ ترقی ہضم نہیں ہو رہی؛ چیئرمین پیپلزپارٹی کا تقریب سے خطاب

تھرپارکر(قدرت روزنامہ)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر اسلام آباد چلانے والے ناکام ہو چکے ہیں تو وہ اقتدار تھرپارکر کے حوالے کر دیں، وہ ملک کو بہتر طریقے سے چلا کر دکھا دیں گے۔
تھرپارکر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جیسی تبدیلی اور ترقی تھرپارکر میں نظر آرہی ہے، ویسی پورے ملک میں کہیں دکھائی نہیں دیتی، پورا پاکستان یہ دیکھ کر حیران ہے کہ تھر کہاں سے کہاں پہنچ گیا، تاہم کچھ عناصر کو یہ ترقی ہضم نہیں ہو رہی، ایک زبردستی کا بیانیہ چلایا جا رہا ہے کہ سسٹم تباہ ہوگیا اس لیے نئے صوبے بنائے جائیں، لیکن اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام آباد بھی تھر کی اس مثالی ترقی پر توجہ دے۔
اسلام آباد ناکام ہوچکا ہے تو اس کو تھرپارکر کے حوالے کردیں ہم اس کو ٹھیک کردینگے، بلاول بھٹو زرداری
#ARYNews https://t.co/WyITAlpWpc
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) October 5, 2026
چیئرمین پی پی پی نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسلام آباد ناکام ہو چکا ہے تو اس کو تھرپارکر کے حوالے کر دیں، ہم اس کو ٹھیک کر دیں گے، اسلام آباد کو ہمارے حوالے کر دیں اور وہاں کے بچوں کے داخلے تھر کے تعلیمی اداروں میں کروا دیں، پھر یہاں کے نوجوانوں کی طرح اسلام آباد کے بچے بھی امتحانوں میں ٹاپ کریں گے، ہمیں صرف اسلام آباد کی باگ ڈور دے کر دیکھیں، ہم ثابت کردیں گے کہ ہمارے نوجوان کیا کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کراچی کی سیاست اور مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک سیاسی یتیموں کی جماعت کراچی میں انتشار کی سیاست کرنے میں مصروف ہے، جب ایم ڈی کیٹ کے نتائج آتے ہیں تو تھر کے بچے ٹاپ کرتے ہیں لیکن سیاسی یتیم مبارکباد دینے کے بجائے نفرت کی سیاست کو ہوا دیتے ہیں، جو کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔
تھر کے توانائی اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے بتایا کہ تھر بلاک ٹو میں 600 میگا واٹ جبکہ بلاک تھری میں 2000 میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی، ایک وقت تھا جب اسلام آباد کے نام نہاد ماہرین کہا کرتے تھے کہ تھر کے کوئلے کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے لیکن آج سندھ حکومت اسی تھر کے کوئلے کو استعمال کر کے 1.6 ارب ڈالر کا بیش قیمت زرمبادلہ بچا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تھر کے منصوبوں میں 60 فیصد روزگار مقامی نوجوانوں کو جبکہ مجموعی طور پر 90 فیصد روزگار سندھ کے نوجوانوں کو فراہم کیا جا رہا ہے، تھر کے کوئلے سے اب بجلی کے علاوہ گیس اور فرٹیلائزر بھی تیار کی جا رہی ہے اور اس سے مزید معاشی فوائد حاصل کیے جائیں گے، پی پی پی کا عزم ہے کہ وہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ماڈل کو اسلام آباد اور کراچی تک پھیلائے، سندھ انویسمنٹ زون بنائے اور ٹھٹہ میں ایک نئی پورٹ کی تعمیر کے ذریعے معیشت کو مزید مستحکم کریں۔
