مسلح جتھوں نے ریاست کے اندر ریاست قائم کر رکھی ہے، غریب ڈرائیوروں سے سرعام بھتہ خوری اور بدترین تشدد: پشتونخوا میپ
ریاستی سرپرستی میں نجی ملیشیا کی غنڈہ گردی، قومی شاہراہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، میزئی اڈہ پر قائم غیر قانونی اڈا ختم کیا جائے

چمن (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع چمن کے جاری کردہ بیان میں چمن کوئٹہ شاہراہ، میزئی اڈہ پر غریب ٹرک ڈرائیوروں سے کھلی بھتہ خوری نہ دینے یا مزاحمت پر مارپیٹ،مال بردار ٹرکوں کو روکنا ان کے شیشے توڑنا ڈرائیوروں و ٹرانسپورٹروں کو زدوکوب کرنا ان پر بدترین تشدد کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہاکہ مسلح جتھوں نے ریاست کے اندر ریاست بنائی ہے ماورائے آئین و قانون اقدامات جیسے سنگین جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں باقاعدہ ریاستی سرپرستی میں عمومی راستوں میں مسلح جتھے نجی ملیشیاء کے اسلحہ بردار اپنی شناخت چھپا کر سرعام گاڑیاں روکتے ہیں ان سے مبینہ طور پر بھتہ طلب کیا جاتا ہے یہ سلسلہ اب مزید بند کی جائے چمن اور کوئٹہ کے درمیان میزئی اڈے پر ایک انتہائی افسوسناک سلسلہ جاری ہے۔وہاں کچھ لوگ جو اپنے آپ کو بااثر بتاتے ہیں، مسلح ہوکر دن رات شاہراہ پر کھڑے ہو کر ہر آنے جانے والے ٹرک ڈرائیور کو زبردستی روکتے ہیں، ان سے بلا وجہ پیسے وصول کرتے ہیں اور انکار کرنے پر ان پر تشدد کرتے ہیں اور انہیں ذلیل کرتے ہیں۔ایک غریب ٹرک ڈرائیور جو سخت گرمی اور سردی میں اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرتا ہے، اس سے اس طرح راستے میں لوٹ مار کرنا انسانیت بھی نہیں اور پشتون روایات کے بھی خلاف ہے۔یہ قومی شاہراہ ہے، کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔بیان میں ڈی سی قلعہ عبداللہ، اسسٹنٹ کمشنر چمن، ایس پی اور ایف سی حکام سے پرزور اپیل ہے کہ میزئی اڈے پر قائم اس غیر قانونی بھتہ خوری کے اڈے کو فی الفور ختم کیا جائے۔ اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔چمن کوئٹہ شاہراہ پر سفر کرنے والے تمام ڈرائیوروں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔تمام اور بالخصوص ٹرک ڈرائیور بھائیوں کی جان و مال عزت و آبرو کے تحفظ کیلئے ٹھوس مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات کئے جائیں تاکہ یہ آواز حکام بالا تک پہنچے اور اس ظلم کو روکا جا سکے۔
