ہم نے کہا ملاقاتیں عمران خان کا آئینی قانونی حق ہے، کہتے ہیں ملٹری آپریشن پر سائن کرو، نہیں کروں گا سائن! سہیل آفریدی


پشاور (قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہم نے کہا ملاقاتیں عمران خان کا آئینی قانونی حق ہے، کہتے ہیں ملٹری آپریشن پر سائن کرو، نہیں کروں گا! خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں جان کی بازی لگا دوں گا لیکن ان کی پالیسی نہیں مانوں گا،میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوں گا، پشاور میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے 78سال بعد ہم کو ایک شناخت دی ہے، انہوں نے ہمیشہ قبائلیوں کو کیڑے مکوڑے سمجھا، عمران خان نے 2018میں ہمیں انتظامی طور پر کے پی میں ضم کیا، لیکن آج تک انہوں نے ہمں مالی طور پر ضم نہیں کیا، ہمارا 100ارب روپے سالانہ ہمیں نہیں دیا جارہا ،ہمارے آئی ڈی پیز جو ملٹری آپریشن کے دوران بے گھر کئے گئے، جو 2006سے 2026تک ان کی نام نہاد جنگ میں ہمیں بے گھر کیا گیا۔
ہماری خواتین جن کے سر کا بال بھی کسی نے نہیں دیکھا تھا وہ سڑکوں پر ماری ماری پھرتی رہیں۔ وہ لوگ جو خود زکوٰة دیتے تھے ان کی غلط پالیسی کی وجہ سے بھیک مانگنے پر مجبور ہوگئے۔ پاکستان کو نام نہاد جنگ میں دھکیل کر قربانی کا بکرا بنایا۔ عمران خان نے 2004 میں ملٹری آپریشن کی مخالفت کی تھی، لیکن یہ مائنڈ سیٹ ابھی بھی وہیں پر پھنسا ہوا ہے ، ابھی ایک اور ملٹری آپریشن کروانا چاہتے ہیں، کہتے ہیں ایمرجنسی لگاؤ، میں کے پی کا وزیراعلیٰ ہوں، میں کسی بھی صورت وہ پالیسی نافذ نہیں کروں گا جو میری عوام کے خلاف ہو، یہ دہشتگردی ہم پر دوبارہ مسلط کی گئی ہے۔
ہم نے کہا یہ ناکام پالیسی ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات سیاسی ہورہے تھے عمران خان سے ملاقاتیں بند ہیں، عمران خان سپر فٹ تھے، ان کو زبردستی جیل میں بیمار کیا ہوا ہے، ان کی اہلیہ جیل میں ہے، بہنوں کو اٹھا لیا گیا ہے۔ ہم کہہ رہے تھے کہ یہ ان کا آئینی قانونی حق ہے۔ کہتے ہیں ملٹری آپریشن پر سائن کرو، نہیں کروں گا ، وہ پالیسی نہیں مانوں گا جو میرے صوبے کے خلاف ہو، میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوں گا،

میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں ، میں جان کی بازی لگا دوں گا لیکن ان کی پالیسی نہیں مانوں گا۔
میں کہتا ہوں کہ آؤ! میں پالیسی دیتا ہوں 100دن میں یہاں امن لا کر دکھاؤں گا، لیکن آپ کا ارادہ یہاں امن لانا نہیں ہے۔کیونکہ تم پختونوں کے دشمن ہو، ایک باہر بیٹھا ہوا ہے وہ کے پی کے لوگوں کو بھیڑ بکریاں سمجھتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert