عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات بے معنی، زور اور زر کے بل بوتے پر چوری کے مینڈیٹ سے آنے والی حکومت کیسے جائز ہو سکتی ہے؟ محمود خان اچکزئی


خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگایا تو عوامی راج کا اعلان کرکے ہر ضلع میں احتجاج کریں گے، حکومت عمران خان سے ہماری ملاقات سے کیوں خوفزدہ ہے؟
طاقتور حلقوں نے عمران خان کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی، اب انہیں توڑنے والوں کے خود ٹوٹنے کا وقت شروع ہو چکا ہے
نصف صدی سے پشتونوں کا خون بہایا جا رہا ہے مگر مفاد پرستوں کی پیاس نہیں بجھی، پشتونوں کی زمینوں کی بندربانٹ اور وسائل لوٹنے کا سلسلہ بند کیا جائے
دہشت گردی اور خونریزی مقامی نہیں بلکہ کئی دہائیوں کی ریاستی، سیکیورٹی اور اندرونی سیاست کو کنٹرول کرنے والی پالیسیوں کا نتیجہ ہے: ژوب کے جلسہ عام سے خطاب
ژوب(ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین، قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے، ایسے حالات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بغیر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات نہ بامعنی ہو سکتے ہیں اور نہ ہی موجودہ بحران کے حل میں مددگار ثابت ہوں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے 7 اکتوبر 1983ء کے شہدا جمہوریت اور 11اکتوبر 1991کے شہدا وطن کی برسی کے موقع پر باز محمد شہید گراؤنڈ ژوب میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر مذاکرات میں دوسرا فریق اپنے قائدین اور دیگر لوگوں سے مشاورت کرتا ہے تو پی ٹی آئی اور اپوزیشن کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ عمران خان سے ملاقات کرکے ان سے مشاورت کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک میری عمران خان سے ملاقات نہیں ہوتی، میں کسی مذاکرات کا حصہ نہیں بنوں گا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی جماعت نے مجھ پر اعتماد کیا ہے اور میں اس اعتماد پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا، تاہم مجھ میں یہ ہمت بھی ہونی چاہیے کہ جو صحیح ہے اسے صحیح اور جو غلط ہے اسے غلط کہہ سکوں۔ حکومت عمران خان سے ہماری ملاقات سے کیوں خوف زدہ ہے؟
محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا کہ خیبرپشتونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے سنگین سیاسی نتائج ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ”آپ گورنر راج لگائیں، ہم عوامی راج کا اعلان کرکے ہر ضلع میں احتجاج کریں گے۔“
انہوں نے کہا حالات ایسے بنائے کہ سہیل آفریدی کے پاس اب آگے بڑھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی، بعد ازاں انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا، ان کی جماعت سے انتخابی نشان بھی لے لیا گیا، لیکن اس کے باوجود عوام نے انہیں اپنا مینڈیٹ دیا۔ آخرکار زور اور زر کے ذریعے ان سے ان کا جیتا ہوا مینڈیٹ چھین لیا گیا۔
محمود خان اچکزئی نے سوال کیا کہ ”اس چوری کے مینڈیٹ کے نتیجے میں آنے والی حکومت کیسے جائز ہو سکتی ہے؟“
انہوں نے کہا کہ طاقتور حلقوں نے عمران خان کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن اللہ کے فضل سے وہ اب تک ڈٹے ہوئے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں توڑنے والوں کے خود ٹوٹنے کا عمل شروع ہو۔
محمود خان اچکزئی نے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ کم از کم ایک قومی ایجنڈے پر متفق ہوں، تاکہ 25 کروڑ عوام کے خوشحال مستقبل کے لیے قابلِ عمل لائحہ عمل اور راستے کا تعین کیا جا سکے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے خلاف 7 اکتوبر 1983ء کو اس لیے نکلے تھے کہ انہوں نے مارشل لا ء نافذ کرکے عوام کا حقِ حکمرانی غصب کیا تھا۔ اس روز ہم پر براہِ راست گولیاں چلائی گئیں، جس میں وہ خود معجزانہ طور پر محفوظ رہے، تاہم ان کے چار ساتھی شہید، درجنوں زخمی اور سینکڑوں کارکن گرفتار ہوئے۔ آج ہم اُن تمام شہداء جمہوریت اور شہدا وطن کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً نصف صدی سے پشتونوں کا بہت خون بہایا گیا، لیکن طاقتور مفاد پرستوں کی پیاس اب بھی نہیں بجھی۔ پشتونوں کا ”جرم“ صرف یہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے محبت کرتے ہیں، جبکہ طاقتور عناصر ان کے وسائل لوٹنا چاہتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ پشتون اپنے باہمی رنجشیں پسِ پشت ڈالیں، اپنے تنازعات کا جرگوں کے ذریعے تصفیہ کریں اور اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کو مضبوط بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ان ارکان، جن کی مدتِ ملازمت ختم ہو چکی ہے، کی نئی تعیناتیاں آئین اور قانون میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم سے کسی بھی غیر جانب دار اور عوامی مقام پر ملاقات کے لیے تیار ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے مطالبہ کیا کہ عدلیہ کے ان ججوں، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو قومی ہیروز قرار دیا جائے جنہوں نے مارشل لا اور پی سی اوز کی مخالفت کی۔
انہوں نے ماسکو فارمیٹ فار کنسلٹیشنز آن افغانستان کے اٹھارویں اجلاس کے موقع پر روسی وزیر خارجہ کے افغانستان سے متعلق بیان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں مداخلت کرنے والی طاقتیں اور ان کے اتحادی افغانستان کے مقروض ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ افغانستان کے استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتونوں کی زمینوں کی الاٹمنٹ اور انتقالات کے ذریعے بندر بانٹ جاری ہے، جبکہ دوسری طرف ان کے قدرتی وسائل اور معدنیات کو لوٹا جا رہا ہے۔
مرکزی سیکرٹری اطلاعات طالعمند خان نے کہا کہ پشتون وطن میں جاری دہشت گردی اور خونریزی کے اسباب مقامی نہیں، بلکہ یہ کئی دہائیوں سے جاری ریاستی خارجہ اور سکیورٹی پالیسیوں اور اندرونی طور پر سیاست کو کنٹرول کرنے کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
ضلع شیرانی کے صدر ڈاکٹر قطب الدین نے بھی جلسے سے خطاب کیا، جبکہ ضلع ژوب کے صدر جمال خان مندوخیل نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے جلسے میں قراردادیں پیش کیں۔
جلسے میں پارٹی کے مرکزی ڈپٹی چیئرمین عبدالرؤف لالا، مرکزی ایڈیشنل مالیات سیکرٹری آغا سید لیاقت علی، مرکزی سیکرٹریز ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، جبار خان اتمانخیل، صلاح الدین خان، عبد الحق ابدال، صوبائی صدر عبدالقہار ودان، صوبائی سینئر نائب صدر سید شرف آغا،نائب صدر وڑانگہ لونی، صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان اور دیگر مرکزی و صوبائی قائدین بھی موجود تھے۔

WhatsApp
Get Alert