گندم مہنگی ہوتے ہی آٹا بھی بے قابو، فی کلو قیمت میں 20 روپے تک اضافہ

لاہور(قدرت روزنامہ)گندم کی قیمتوں میں اضافے کے بعد آٹے کے نرخ بھی بڑھ گئے ہیں، فلور ملز نے آٹے کی مختلف اقسام کی قیمتوں میں فی کلو 20 روپے تک اضافہ کردیا، جس کے بعد شہریوں پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔
اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت بڑھ کر 14 ہزار 500 روپے فی 100 کلو تک پہنچ گئی ہے، گندم مہنگی ہونے کے باعث فلور ملز نے آٹے کے نرخ میں اضافہ کیا ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
ہول سیل نرخ
ہول سیل مارکیٹ میں ریگولر آٹے کی قیمت 155 روپے، میدہ 167 روپے جبکہ فائن آٹا 180 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے،ریٹیل مارکیٹ میں ریگولر آٹا 170 روپے، فائن آٹا 200 روپے جبکہ چکی آٹا 210 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگا ہے۔
سپلائی بھی روکی گئی
میڈیا رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے سے قبل فلور ملز کی جانب سے کئی روز تک آٹے کی سپلائی روکے جانے سے دکانوں پر اسٹاک کی کمی پیدا ہوئی، جس کے بعد قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔
درآمدی گندم کا انتظار
ذرائع کے مطابق درآمدی گندم نومبر تک پہنچنے کی توقع ہے، تاہم اس وقت تک اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
سندھ حکومت کا ریلیف
دوسری جانب سندھ حکومت نے آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے 15 اکتوبر سے فلور ملز کو رعایتی گندم جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
12 ہزار 500 روپے میں گندم
سندھ حکومت فلور ملز کو 12 ہزار 500 روپے فی 100 کلو کے حساب سے رعایتی گندم فراہم کرے گی، حکومتی اقدام کا مقصد فلور ملز کو نسبتاً کم قیمت پر گندم کی فراہمی اور آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مدد دینا ہے۔
سرکاری ذخائر
سندھ کے سرکاری ذخائر میں اس وقت 3 لاکھ 46 ہزار 414 میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔ پاسکو اور درآمدی گندم کی آمد کے بعد سرکاری ذخائر میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ذخائر 8 لاکھ ٹن سے زائد
حکام کے مطابق پاسکو اور درآمدی گندم آنے کے بعد گندم کا مجموعی ذخیرہ 8 لاکھ 36 ہزار 414 میٹرک ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے،گندم اور آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد شہریوں کی نظریں اب رعایتی گندم کی فراہمی اور درآمدی گندم کی آمد پر مرکوز ہیں، تاکہ مارکیٹ میں قیمتوں کا دباؤ کم ہوسکے۔

WhatsApp
Get Alert