’اچھی فلم بنائیں، عزت دوبارہ بن جائے گی‘، بھارتی سپریم کورٹ میں راج پال یادو اور جج کے مکالمے وائرل

نئی دہلی (قدرت روزنامہ)بھارتی اداکار راج پال یادو کی سپریم کورٹ میں پیشی کے دوران چیف جسٹس سوریا کانت کے ساتھ گفتگو سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہی ہے۔ سماعت کے دوران اداکار نے اپنی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ کی ناکامی، مالی نقصان اور گزشتہ برسوں میں اپنی ساکھ متاثر ہونے کی شکایت کی، جس پر چیف جسٹس نے انہیں اچھی فلم بنا کر لوگوں کو دوبارہ محظوظ کرنے کا مشورہ دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 7 اکتوبر کو چیک باؤنس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے راج پال یادو سے پوچھا کہ کیا وہ کوئی نئی فلم بنا رہے ہیں؟ اس پر اداکار نے کہا کہ وہ تقریباً 200 سے 250 فلموں میں کام کر چکے ہیں، تاہم گزشتہ 13 برس کے دوران انہیں 200 سے 250 کروڑ روپے تک کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے بقول فلم ’اتا پتا لاپتا‘ میں ان کے 17 کروڑ روپے ڈوب گئے۔

راج پال یادو نے عدالت کو بتایا کہ ان کی فلم 1200 سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی تھی، لیکن ان کے خلاف پریس کانفرنس اور فلم کی ریلیز متاثر ہونے کے باعث وہ ایک سنیما گھر میں بھی ریلیز نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ 5 کروڑ روپے کے تنازع نے ان کے مالی حالات اور ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔

اس پر چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ اچھی فلم بنا کر لوگوں کو محظوظ کریں، اس سے ان کی عزت اور ساکھ دوبارہ بحال ہوسکتی ہے۔ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں یہ بھی کہا کہ عدالت میں بعض وکلا بھی اچھے اداکار ہیں، انہیں فلم میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

یہ مقدمہ 2010 میں فلم کی تیاری کے لیے لیے گئے 5 کروڑ روپے کے قرض اور بعد ازاں چیک باؤنس ہونے سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ نے راج پال یادو کو 13 اکتوبر تک 2 کروڑ روپے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

WhatsApp
Get Alert