باپ کا پلاٹ فروخت، ماں کے زیورات گروی؛ ویزہ فراڈ کے شکار خاندان کی دردناک داستان

لائبہ نے اسلامک یونیورسٹی سے گولڈ میڈل لیا تھا، کرائے کے فلیٹ میں ماں باپ کے ساتھ رہتی تھی، باپ دودھ بیچ کر بیٹی کو پڑھا رہا تھا، جب ڈاکیومنٹ چیک کروائے تو سب کچھ جعلی تھا؛ صحافی سبوخ سید کی پوسٹ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جعلی ویزہ ایجنٹ کے ہاتھوں لٹنے والی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ کی خودکشی کے پیچھے چھپی کہانی اور غریب باپ کی قربانیوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صحافی سبوخ سید کی جانب سے شیئر کی گئی تفصیلات کے مطابق 20 سالہ لائبہ نے انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا اور وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ کرائے کے ایک فلیٹ میں رہتی تھی، اس کا باپ دودھ بیچ کر اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلا رہا تھا تاکہ اس کا مستقبل روشن ہوسکے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ایک کنسلٹنٹ نے داخلے اور ویزہ کے نام پر 70 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا، جس کے لیے محنتی باپ نے اپنا پلاٹ بیچ دیا اور ماں نے اپنے زیورات بینک میں گروی رکھوا کر بیٹی کی منزل کی راہ ہموار کی، تاہم جب لائبہ نے ان دستاویزات کو خود چیک کروایا تو انکشاف ہوا کہ کنسلٹنٹ کی طرف سے فراہم کردہ تمام کاغذات اور داخلہ جعلی تھا۔


سبوخ سید کا کہنا ہے کہ اس ہولناک انکشاف نے ہونہار طالبہ کو شدید ذہنی صدمے اور دلبرداشتہ کردیا، جس کے بعد اس نے انتہائی قدم اٹھا لیا، اپنی موت سے قبل لائبہ نے اپنے ماموں کو ایک پیغام بھیجا جس میں کہا تھا کہ ’ابو کو اس فراڈ کا پتہ نہ چلے، وہ مر جائیں گے‘ لیکن اب تو باپ کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور پلاٹ بھی گیا، بیٹی کے خواب بھی راکھ ہو گئے اور بالآخر بیٹی بھی ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔
اس واقعے پر صحافی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا جس میں انہوں نے حکمرانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص ایف آئی اے کی مجرمانہ غفلت اور میڈیا کے دوہرے معیار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف جہاں حکمران اور متعلقہ ادارے چین کی نیند سو رہے ہیں، وہیں غریبوں کی زندگیاں اس نظام اور جعلسازوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert