بلوچستان میں شاہراہیں غیر محفوظ ہو چکیں، اسکولوں اور کالجوں میں منشیات چاکلیٹ کی طرح فروخت ہو رہی ہے: مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

صوبے بھر میں شراب کی کھلے عام فروخت اور منشیات کے دھندے نے نوجوان نسل کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے


حکومت اور سیکیورٹی ادارے منشیات کے اس بھیانک کاروبار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے بلا تفریق کارروائی عمل میں لائیں: بلوچستان اسمبلی میں خطاب
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کا جاری اجلاس اس وقت انتہائی اہم بحث کا مرکز بن گیا جب توجہ دلا نوٹس پر خطاب کرتے ہوئے رکنِ صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے صوبے میں امن و امان، غیر محفوظ شاہراہوں اور منشیات کی ہولناک لعنت پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ بدقسمتی سے آج ہماری شاہراہیں مسافروں اور عام شہریوں کے لیے بالکل غیر محفوظ ہو چکی ہیں، جہاں آئے روز امن و امان کے مسائل اور سفری خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، جس کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
صوبے میں بڑھتی ہوئی منشیات کی فروخت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے انکشاف کیا کہ منشیات فروش منظم طریقے سے ہماری نئی نسلوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں شراب کی کھلے عام فروخت جاری ہے، اور اب صورتحال اتنی تشویشناک ہو چکی ہے کہ منشیات تعلیمی اداروں تک پہنچ چکی ہے جہاں یہ زہر اب “چاکلیٹ کی طرح فروخت” ہو رہا ہے۔ رکنِ اسمبلی نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ منشیات فروشوں اور اس کے ناسور کو پھیلانے والوں کے خلاف فوری، بلا امتیاز اور سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ نوجوان نسل کو اس تباہی سے بچایا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert