کالے پڑنے والے کیلے نہ پھینکیں، پہلے یہ اہم بات جان لیں

لاہور(قدرت روزنامہ)کیا آپ بھی کیلے کے چھلکے پر سیاہ دھبے آنے یا زیادہ پک جانے پر اسے بے کار سمجھ کر کوڑے دان کی نذر کر دیتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اب رک جائیے۔ ایک حالیہ تحقیق میں زیادہ پکے ہوئے کیلوں میں موجود بعض قدرتی مرکبات اور کینسر کے خلیوں پر ان کے ممکنہ اثرات کا انکشاف ہوا ہے۔
بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ پکے ہوئے کیلے اور کینسر کے خلیوں سے متعلق اس تحقیق یہ بات سامنے آئی ہے کہ جیسے جیسے کیلا پکتا ہے اور اس کا چھلکا گہرا بھورا یا سیاہ ہونے لگتا ہے، ویسے ویسے اس کے اندر موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور مفید نامیاتی مرکبات کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
لیبارٹری میں کیے گئے تجربات سے پتا چلا کہ پکے ہوئے کیلوں سے حاصل کیے گئے مادے نے کینسر کے خلیوں کے بڑھنے کی رفتار کو سست کرنے کی صلاحیت دکھائی۔
اس تحقیق کا سب سے اہم اور دلچسپ پہلو یہ تھا کہ یہ مرکبات نقصان دہ خلیات پر اثر انداز ہوتے ہیں جبکہ جسم کے صحت مند خلیوں کو نسبتاً بہت کم نقصان پہنچاتے ہیں۔
سائنسدانوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ لہٰذا اسے کینسر کا حتمی علاج یا متبادل ادویات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ اس پر مزید وسیع پیمانے پر کلینکل ٹرائلز کی ضرورت ہے۔
زیادہ پکے ہوئے کیلے کھانے کے فوائد
کیلا عام طور پر ایک غذائیت بخش پھل ہے۔ اس میں پوٹاشیم، فائبر، وٹامن بی 6 اور دوسرے مفید اجزا پائے جاتے ہیں۔ پوٹاشیم جسم کے پٹھوں اور اعصاب کے معمول کے کام میں مدد دیتا ہے، جبکہ فائبر ہاضمے کو درست رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
زیادہ پکا ہوا کیلا نرم ہونے کی وجہ سے بعض لوگوں کے لیے چبانا آسان ہو سکتا ہے۔ اس کی مٹھاس بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ پکنے کے دوران نشاستے کا کچھ حصہ شکر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ البتہ ذیابیطس کے مریضوں کو کیلا کھاتے وقت اس کی مقدار اور اپنے خون میں شکر کی سطح کا خیال رکھنا چاہیے۔
کالا کیلا کھانے سے پہلے یہ احتیاط کریں
کیلے کے چھلکے پر بھورے یا سیاہ دھبے پڑنا اکثر پکنے کے عمل کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر چھلکے پر دھبے ہوں لیکن کیلا اندر سے خراب نہ ہو، اس میں پھپھوندی نہ ہو اور اس سے غیر معمولی بدبو نہ آ رہی ہو تو عموماً اسے کھایا جا سکتا ہے۔
اس کے برعکس، اگر کیلے پر پھپھوندی نظر آئے، اس سے سڑی ہوئی بو آئے یا اس کا گودا غیر معمولی طور پر خراب ہو چکا ہو تو اسے کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ صرف رنگ دیکھ کر کیلے کو خراب قرار دینا بھی درست نہیں اور ہر سیاہ پڑنے والے کیلے کو محفوظ سمجھ لینا بھی مناسب نہیں۔
ماہرین کی عمومی غذائی ہدایات کے مطابق، متوازن غذا میں مختلف پھلوں اور سبزیوں کو شامل کرنا صحت کے لیے مفید ہے۔ کیلا بھی اس کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن کسی ایک پھل کو کینسر سے بچاؤ یا علاج کا یقینی ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
