پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کا حوثیوں کے حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ، سعودی عرب کی سلامتی کیلئے مکمل حمایت کا اعلان
استنبول میں چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت، علاقائی کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے سفارتی حل پر زور

استنبول(قدرت روزنامہ)پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری اور غیر مشروط طور پر بند کرنے کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔ چاروں ممالک نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کیلئے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جمعہ 23 اکتوبر کو ترکیہ کے شہر استنبول میں علاقائی چار ممالک کے گروپ آر فور (R4) کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے شرکت کی۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال، علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات اور جاری تنازعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی اور مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کیلئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
حوثیوں کے حملے فوری اور غیر مشروط بند کرنے کا مطالبہ
اس سے قبل 11 اکتوبر کو جاری کیے گئے آر فور گروپ کے مشترکہ اعلامیے میں چاروں ممالک نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
مشترکہ اعلامیے میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت شہری تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان کارروائیوں سے شہریوں کی ہلاکتیں، زخمی ہونے کے واقعات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ایسے حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں اور انہیں کسی بھی جواز کے تحت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
چاروں ممالک نے حوثی ملیشیا کو ان حملوں اور ان کے علاقائی و بین الاقوامی اثرات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے حملے فوری اور غیر مشروط طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
پاکستان کا سعودی عرب کی سلامتی کیلئے حمایت کا اعادہ
استنبول اجلاس میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر روشنی ڈالی۔
دفتر خارجہ کے مطابق چاروں ممالک نے باہمی رابطوں کو مضبوط بنانے اور علاقائی امن و استحکام کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار نے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی اور علاقائی معاملات پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے مکہ دفاعی معاہدے سمیت مشترکہ علاقائی سلامتی کے امور پر رابطے بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
علاقائی کشیدگی اور اہم سمندری راستوں کی سلامتی پر تشویش
مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق چاروں وزرائے خارجہ نے علاقائی تنازعات کے سیاسی اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مزید فوجی کشیدگی کے سنگین معاشی اور سلامتی سے متعلق نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
اجلاس میں آبنائے ہرمز اور باب المندب سمیت بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔ وزرائے خارجہ نے ان راستوں کو عالمی تجارت اور سپلائی چین کیلئے انتہائی اہم قرار دیا۔
یورپی ممالک کے ساتھ بھی اہم مذاکرات
استنبول میں آر فور اجلاس کے بعد پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی کے وزرائے خارجہ کے ساتھ بھی بات چیت کی۔
پاکستان کے سرکاری اعلامیے کے مطابق ان مذاکرات میں خلیجی خطے کی صورتحال، اس کے معاشی اور سماجی اثرات اور علاقائی تنازعات کے حل کیلئے سفارتی رابطے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے شرکا کو کشیدگی کم کرنے، دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع ہونے سے روکنے اور علاقائی امن کے فروغ کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔
اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ نے اس نوعیت کے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
چاروں ممالک کا تازہ مؤقف ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن کے تنازع اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے باعث مشرق وسطیٰ کی سلامتی کو نئے خطرات لاحق ہیں، جبکہ پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کشیدگی میں کمی کیلئے مشترکہ سفارتی کوششوں پر زور دے رہے ہیں۔
