زیرِحراست افراد کی نظر بندی میں توسیع کا فیصلہ سکیورٹی اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ہوتا ہے، رانا ثناء اللہ

عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں بھارت اور افغانستان سے دہشتگردی ہو رہی ہے اور یہ لوگ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں رکاوٹ ہیں، وفاقی مشیر کی پروگرام میں گفتگو


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی میں توسیع کا فیصلہ محض کسی کی خواہش یا موڈ پر نہیں بلکہ ملکی انٹیلیجنس رپورٹس اور زمینی سکیورٹی حقائق کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، ملک کو اس وقت جو شدید قسم کی دہشتگردی کا سامنا ہے، وہ عام نوعیت کی نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے وہ عناصر اور محرکات کارفرما ہیں جو ریاست کی رِٹ اور ملکی سالمیت کے لیے براہِ راست خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
اینکرپرسن محمد مالک کے پروگرام کے دوران میزبان کی جانب سے پوچھے گئے اس سوال پر کہ آیا تیس دن کی مخصوص مدت پوری ہونے کے بعد عمران خان کی زیرِ حراست بہنوں کو رہا کر دیا جائے گا؟ رانا ثناء اللہ نے جواب دیا کہ اس قسم کے تمام انتظامی اور سکیورٹی فیصلوں کا انحصار وقت کی آپریشنل ضروریات اور انٹیلیجنس اداروں کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹس پر ہوتا ہے۔


انہوں نے مزید وضاحت کی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور امن و امان کی مستقل بحالی کے لیے جو اقدامات اٹھا رہے ہیں، ان کا مقصد پاکستان کے وجود اور بقا کا تحفظ یقینی بنانا ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ ادارے پوری طرح متحرک ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں حکومتی مشیر کا کہنا تھا کہ بعض مخصوص افراد کو سکیورٹی خدشات اور ان کی اپنی جان کے تحفظ کے پیشِ نظر حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ عوامی اشتعال، ناخوشگوار واقعے یا خطرے سے ان کا مؤثر بچاؤ کیا جا سکے۔
انہوں نے اس تاثر کو سختی سے رد کیا کہ حراست کے پیچھے کوئی ذاتی یا سیاسی انتقام کارفرما ہے اور کہا کہ یہ تمام اقدامات ملکی امن، آئینی حدود اور ریاستی ضرورتوں کے تحت اٹھائے جا رہے ہیں، ریاست مخالف سرگرمیوں، قانون شکنی اور امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بھرپور کارروائی جاری رکھی جائے گی اور اس سلسلے میں کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert