پاکستان کی خارجہ پالیسی تباہی کی طرف گامزن ہے، پڑوسیوں کا اعتماد ختم ہو چکا، زلفی بخاری


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماء اور سابق وفاقی معاونِ خصوصی سید زلفی بخاری نے موجودہ وفاقی حکومت کی عالمی و علاقائی سفارتی پالیسیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی تیزی سے ایک بڑے بحران اور تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کے اثرات ملک کے مجموعی و معاشی مستقبل پر خطرناک حد تک اثر انداز ہو رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں پی ٹی آئی رہنماء سید زلفی بخاری نے موجودہ سفارتی تنہائی پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ آج پاکستان ایک ایسے جغرافیائی اور علاقائی ماحول میں سانس لے رہا ہے جہاں ہمارا کوئی بھی ہمسایہ ملک ہم پر بھروسہ یا اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور غیر متوازن سفارت کاری کے باعث ملک کو بین الاقوامی سطح پر سخت تنہائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ایک طرف افغانستان اور بھارت جیسے ممالک پاکستان مخالف ایجنڈے پر تیزی سے پیش رفت کرتے ہوئے اپنے باہمی تعلقات اور شراکت داری کو مزید گہرا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ہم اپنے سب سے قابلِ اعتماد دوست ملک چین کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور منصوبوں کا تحفظ کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکمرانوں نے بیرونی اشاروں اور دوسروں کی ایماء پر برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ بھی اپنے تاریخی اور اہم تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے، کھوکھلے دعوؤں، محض فوٹو سیشنز اور بے بنیاد وعدوں کے ذریعے ملک کی سفارت کاری نہیں چلائی جا سکتی، بہت جلد امریکہ اور خلیجی تعاون کونسل یعنی جی سی سی کے ممالک بھی ان کھوکھلے وعدوں اور نعروں کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھ جائیں گے کیونکہ زبانی جمع خرچ سے حقیقی اور پائیدار سفارتی تعلقات استوار نہیں کیے جا سکتے۔

WhatsApp
Get Alert