شاہراہیں غیر محفوظ اور ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن، مشینری مکمل ناکام ہو چکی ہے ‘ تعلیم و صحت کا نظام مفلوج اور پشتونوں سے امتیازی سلوک عروج پر ہے، پشین جرگہ

پشین (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جنوبی پشتونخوا کوئٹہ کے سہ روزہ پشتون قوم اور عوام کے منعقدہ جرگہ کے تسلسل میں تمام اضلاع میں مشاورتی جرگوں کا انعقاد جاری ہے۔ اور اس سلسلے میں گزشتہ روز پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی کے زیر صدارت ضلع پشین کا پروقار مشاورتی جرگہ کا انعقاد کیا گیا۔ مشاورتی جرگہ نے اپنے کارہندہ جرگہ منتخب کیا اور کارہندہ جرگہ ضلع پشین اپنا سربراہ مقررکرینگے۔ اور ساتھ ہی ضلع پشین میں عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی تگ ودو کرے گی۔ جرگہ نے نواب ایاز خان جوگیزئی کو مزید تقررات کے لیے مکمل اختیار دے دیا۔ جرگے سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی،مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، ضلع صدر عمر خان ترین، انور خان ترین، ثناء اللہ ترین اور جرگہ کے دیگر معززین نے مجموعی طور پر درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن کا اس وقت سب اہم مسئلہ امن وامان کی ہے، صوبے سے باہر جاتے ہوئے اور صوبے کے اندر تمام شاہراہیں سفر کے لیے سرکاری سرپرستی میں غیر محفوظ بن چکے ہیں، پولیس کے تھانے غیروں کے حوالے کیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ چوری،ڈکیتی، ڈاکہ زنی عام ہوچکی ہے اور عوام کو سرومال کی تحفظ حاصل نہیں۔ سرکاری مشینری امن وامان اور دیگر تمام شعبوں، محکموں ناکامی کا سامنا ہے۔ سماجی خدمات کے محکمہ جات تعلیم اور صحت کا دور دراز کے علاقوں میں فنکشن نہ ہونے کے برابر ہیں۔ صوبے کے اوسط سالانہ ایک کرورڑ 20لاکھ ایکڑ پانی کی سٹوریج کے لیے صوبائی بجٹ میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔ 26ویں اور 27ویں آئینی نام نہاد ترمیمات کے بعد عدلیہ اور میڈیا کے آزادی کے پرکاٹے گئے ہیں اور ہمارے وطن میں لوگوں کے درمیان آپس کے جھگڑے اور قتل وقتال کے معاملات سرکاری طور پر حل کرنے کا عدالتی نظام نہ ہونے کے برابر ہے اور ہم نے ان جھگڑوں، رنجشوں کے خاتمہ اور صلح، تصفیوں کے لیے جرگوں سے فیصلے کرانے ہوں گے جس کے لیے آپ لوگوں کی مشاورت سے پشتون سفید ریش، مخور حضرات کو مقرر کرنے اور جھگڑوں کا حل نکالنے کا آغاز کرونگا۔ انہوں نے کہاکہ صوبے میں پشتونوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور پشتونوں کے سودا گری،تجارت، روزگار اور صوبائی بجٹ میں پشتون علاقوں کو نظر انداز کرنے اور ترقیاتی کاموں میں ملکی اور بین الاقوامی جانچ پڑتال کے اداروں نے 52فیصد سے زیادہ کرپشن کی نشاندہی کی ہے۔ جرگہ ہر ضلع میں عوام کے خزانے کی لوٹ کرنے والوں اور ترقیاتی سکیمات پر نظر رکھے گی، سرکاری طور پر مقرر لوٹ مار کرنے والوں کا محاسبہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جرگہ صوبائی طو رپر انتظامیہ کو انہیں درپیش مسائل امن وامان اور خصوصاً بین الملکی، بین الصوبائی اور بین القوامی شاہراہوں پر امن قائم کرنے، تمام محکمہ جات میں جاری کرپشن اورڈیورنڈ خط پر 130سال سے جاری تجارت کی بندش اور پشتونخواوطن میں روزگار،سرکاری پرائیوٹ سیکٹر بحال کرنے پر بات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم بہت جلد جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع کی مشاورتی جرگوں کا انعقاد مکمل کرینگے تاکہ پشتونخواوطن میں جاری بدامنی، دہشت گردی، افراتفری،بدانتظامی اورصوبے میں جاری لوٹ کھسوٹ اور پشتونوں کے ساتھ امتیازی رویہ کے خاتمے کے لیے تمام جنوبی پشتونخوا میں درپیش مسائل کے حل، واقعات اور بدامنی کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرے گی اور اس پر مشترکہ احتجاج کی راہ اپنائی جائے گی۔
