متحدہ عرب امارات میں سوڈانی فوج کو غیرقانونی اسلحہ فراہم کرنے پر 8 افراد کو عمر قید، سابق انٹیلی جنس چیف بھی شامل


ابوظبی (قدرت روزنامہ) متحدہ عرب امارات کی وفاقی اپیل عدالت نے سوڈانی فوج کو غیرقانونی طور پر اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان فراہم کرنے اور اس سے متعلق منی لانڈرنگ کے مقدمے میں آٹھ افراد کو عمر قید کی سزا سنادی ہے۔ سزا پانے والوں میں سوڈان کے سابق انٹیلی جنس سربراہ صلاح گوش اور سوڈانی فوج کے اعلیٰ عہدیدار یاسر العطا بھی شامل ہیں۔
عدالت نے مقدمے میں ملوث کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے، غیرقانونی رقوم ضبط کرنے اور سزا یافتہ افراد کو قید مکمل ہونے کے بعد ملک بدر کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق ابوظبی کی وفاقی اپیل عدالت نے جمعرات کو ایک منظم بین الاقوامی نیٹ ورک کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سنایا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ ملزمان متحدہ عرب امارات میں قائم تجارتی کمپنیوں، بینک اکاؤنٹس اور نقد رقوم کے ذریعے سوڈانی فوج کیلئے اسلحے کی خریداری اور ترسیل کا انتظام کرتے تھے، جبکہ ان سودوں میں استعمال ہونے والی رقوم کی اصل نوعیت اور ذرائع چھپانے کیلئے منی لانڈرنگ بھی کی جاتی تھی۔
سوڈان کے سابق انٹیلی جنس چیف اور اعلیٰ فوجی افسر سمیت 8 افراد کو عمر قید
عدالتی فیصلے کے مطابق عمر قید پانے والے افراد میں راشد عمر عبدالقادر علی، صلاح عبداللہ محمد صالح المعروف صلاح گوش، احمد عبداللہ المعروف عبداللہ خلف اللہ، احمد ربیع سید احمد، محمد فتح البیک، یاسر عبدالرحمان العطا، عثمان الزبیر اور ماہر عبدالجلیل شامل ہیں۔
صلاح گوش سوڈان کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں، جبکہ یاسر العطا سوڈانی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے معاون اور فوجی سازوسامان کی خریداری سے متعلق اہم ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ہیں۔
عدالت نے مقدمے میں استعمال ہونے والا گولہ بارود، موبائل فون اور مواصلاتی آلات ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ سزا یافتہ افراد کو قید کی مدت مکمل ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات سے ملک بدر بھی کیا جائے گا۔
عدالتی فیصلے میں منی لانڈرنگ سے متعلق الزامات پر متعدد افراد کو تین، تین سال قید اور فی کس 10 لاکھ درہم جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔ بعض نام عمر قید اور منی لانڈرنگ کی الگ سزاؤں، دونوں میں شامل ہیں۔
طبی امداد کے نام پر گولہ بارود سوڈان بھیجنے کی کوشش
عدالتی تحقیقات کے مطابق ملزمان نے متحدہ عرب امارات میں متعلقہ حکام کی اجازت یا قانونی لائسنس کے بغیر اسلحے اور فوجی سازوسامان کی خریدوفروخت کی۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ گروہ نے گوریونوف قسم کی مشین گنوں میں استعمال ہونے والا گولہ بارود متحدہ عرب امارات پہنچایا، جسے بعد میں طیارے کے ذریعے سوڈان کے شہر پورٹ سوڈان منتقل کرنے کی تیاری کی گئی۔
اسلحے کی اصل نوعیت چھپانے کیلئے طیارے کے سامان کو طبی آلات اور امدادی سامان ظاہر کیا گیا تھا۔
عدالت کے مطابق یہ کارروائیاں سوڈانی فوج کیلئے اسلحے اور فوجی سازوسامان کی دو مختلف خریداریوں سے متعلق تھیں۔
ان سودوں کی ادائیگی متحدہ عرب امارات میں بینک ٹرانسفرز اور نقد رقوم کے ذریعے کی گئی۔
ایک سودے میں تقریباً 80 لاکھ درہم نقد ادا کیے گئے
عدالتی فیصلے میں راشد عمر عبدالقادر علی کو اسلحے کی خریداری اور ترسیل کے انتظامات میں مرکزی کردار کا حامل قرار دیا گیا۔
عدالت کے مطابق راشد عمر نے اپنی کمپنی کے ذریعے سوڈانی فوج کیلئے اسلحہ اور فوجی سازوسامان فراہم کرنے کے انتظامات کیے اور اس مقصد کیلئے متحدہ عرب امارات میں رقوم وصول کیں۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ ماہر عبدالجلیل نے ایک اسلحہ سودے کی ادائیگی کے طور پر راشد عمر کو تقریباً 80 لاکھ درہم نقد فراہم کیے تھے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ماہر عبدالجلیل نے اسلحے کے سودوں میں مالی رابطہ کار کا کردار ادا کیا اور مختلف بینک اکاؤنٹس اور کمپنیوں کے ذریعے رقوم کی منتقلی میں حصہ لیا۔
فیصلے کے مطابق سوڈانی فوج کے اعلیٰ عہدیدار یاسر العطا نے اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی خریداری کی درخواست کی تھی اور پورٹ سوڈان ایئرپورٹ پر طیارے کی لینڈنگ کی اجازت حاصل کرنے کیلئے اقدامات کیے تھے۔
اسی طرح سوڈانی فوج کے مالی امور سے متعلق عہدیدار عثمان الزبیر کو اسلحے کی ادائیگیوں، سامان کی جانچ اور متعلقہ رقوم کی منتقلی میں ملوث پایا گیا۔
6 کمپنیوں پر 60 لاکھ درہم جرمانہ، لائسنس منسوخ کرنے کا حکم
ابوظبی کی عدالت نے منی لانڈرنگ میں ملوث پائی جانے والی چھ تجارتی کمپنیوں پر 10، 10 لاکھ درہم جرمانہ عائد کیا ہے۔
ان کمپنیوں میں راشد عمر بروکریج کمپنی، پورٹیکس ٹریڈ لمیٹڈ، اپولارا الیکٹرانکس ٹریڈنگ کمپنی، ییلو سینڈ ٹریڈنگ کمپنی، وردۃ المسرۃ ٹریڈنگ کمپنی اور سوڈامینا فری زون شامل ہیں۔
عدالت نے ان کمپنیوں کے تجارتی لائسنس اور رجسٹریشن منسوخ کرنے کے ساتھ ان کے منجمد اثاثے اور منی لانڈرنگ سے حاصل ہونے والی رقوم ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔
اس کے علاوہ مقدمے میں ضبط کی گئی 15 لاکھ 45 ہزار درہم کی رقم سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی جاری کیا گیا۔
عدالت نے دو افراد، مبارک علی الشیخ اور مصعب عوض الکریم حسن، کو ان کے خلاف عائد الزامات سے بری کردیا۔
جعلی دستاویزات اور کمپنیوں کے ذریعے رقوم کی اصل حقیقت چھپائی گئی
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمان نے اسلحے کی غیرقانونی تجارت کیلئے ایک منظم نظام قائم کیا تھا، جس میں مختلف تجارتی ادارے، جعلی دستاویزات اور بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔
اس نیٹ ورک کے ذریعے نہ صرف فوجی سازوسامان کی خریدوفروخت کی جاتی تھی بلکہ رقوم کے اصل ذرائع اور ان کی منزل کو بھی چھپایا جاتا تھا۔
عدالت کے مطابق یہ سرگرمیاں سوڈان میں جاری مسلح تنازع کے دوران ایک فریق کو اسلحہ فراہم کرنے کیلئے انجام دی گئیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات کی سرزمین اور مالیاتی نظام کو اس نوعیت کی غیرقانونی سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنا ملک کے بین الاقوامی تعلقات اور مفادات کیلئے نقصان دہ ہوسکتا تھا۔
عدالت نے اسلحے کی غیرقانونی تجارت اور جعلی دستاویزات کے استعمال کو ایک منظم مجرمانہ سرگرمی کا حصہ قرار دیا، جبکہ منی لانڈرنگ کو الگ جرم کے طور پر دیکھا گیا۔
سوڈان کی خانہ جنگی اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں کشیدگی
یہ عدالتی فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان خانہ جنگی جاری ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سوڈانی فوج ماضی میں متحدہ عرب امارات پر اپنے مخالف گروہ ریپڈ سپورٹ فورسز کو اسلحہ فراہم کرنے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے، تاہم متحدہ عرب امارات ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
تازہ عدالتی مقدمہ ایک الگ غیرقانونی نیٹ ورک سے متعلق ہے جس کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی سرزمین سے سوڈانی فوج کو اسلحہ فراہم کیا جارہا تھا۔
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے مالی اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
حکام کے مطابق یہ مقدمہ اسلحے کی غیرقانونی تجارت اور منی لانڈرنگ کے خلاف متحدہ عرب امارات کی کارروائیوں کی ایک اہم مثال ہے، جس میں تجارتی کمپنیوں اور مالیاتی نظام کے غلط استعمال کے ذریعے فوجی سازوسامان کی ترسیل کا منظم نیٹ ورک بے نقاب ہوا۔

WhatsApp
Get Alert