ایران جنگ کے باعث ساری زندگی کروز شپ پر گزارنے والوں کاسفر ادھورا رہ گیا

ایران (قدرت روزنامہ)کیا آپ اپنی ساری زندگی کسی پرتعیش بحری جہاز میں گزارنا پسند کریں گے؟

درحقیقت 2024 میں سیکڑوں افراد نے ایسا فیصلہ کیا اور ایک کروز شپ پر سوار ہوگئے۔

ایران جنگ کے باعث ساری زندگی کروز شپ پر گزارنے والوں کا سفر کمپنی دیوالیہ ہونے کے باعث ادھورا رہ گیا۔

فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی کمپنی کے کروز شپ ولا وائی اوڈیسی پر 200 سے زائد مسافر 2024 میں بقیہ ساری زندگی دنیا کے گرد گھومتے ہوئے گزارنے کے لیے بھاری رقوم دے کر سوار ہوئے تھے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھنے سے ان کے لیے جہاز کو چلاتے رہنا ممکن نہیں رہا اور اسے کمبوڈیا میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جہاز سے رہنے والے افراد کی عارضی رہائش کے انتظامات پر کام کیا جا رہا ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ فروری 2026 کے بعد سے ایران جنگ کے باعث بندرگاہوں میں زیادہ وقت گزارنا پڑا ہے جبکہ ایندھن مہنگا ہوگیا ہے، جس کے باعث مالی نقصانات کا سامنا ہو رہا ہے۔

یہ کروز شپ 2024 میں شمالی آئرلینڈ کے شہر بلفاسٹ سے روانہ ہوا تھا جبکہ اس میں 5 سال تک قیام کا کرایہ 60 ہزار ڈالرز جبکہ مستقل قیام کا کرایہ ایک لاکھ 20 ہزار ڈالرز رکھا گیا تھا۔

کروز شب کے کیبنوں میں رہنے والے 3300 سے 9500 ڈالرز ماہانہ فیس بھی ادا کرتے تھے تاکہ غذا، مشروبات، وائی فائی، طبی سہولیات اور دیگر اخراجات کو پورا کرسکیں۔

WhatsApp
Get Alert