دنیا کے اکثر طاقتور حکمران ٹرمپ کی طرح خبط عظمت کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں، حامد میر
انہیں ایسا لگتا ہے کہ اُن سے زیادہ سمجھدار کوئی دوسرا نہیں، پھر یہی خبط عظمت ان کے زوال کا باعث بنتا ہے، ایسا صرف ٹرمپ کے ساتھ نہیں ہوا ہر ظالم و جابر کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے؛ سینئر صحافی کا تجزیہ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ اقتدار کا نشہ اور مطلق العنانی جب کسی حکمران کے سر چڑھ کر بولتی ہے تو وہ زوال کی طرف گامزن ہو جاتا ہے، جس کی تازہ ترین مثال امریکی سیاسی منظر نامے میں دیکھی جا سکتی ہے۔
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات پر حامد میر نے اپنے تجزیے کا آغاز کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ مسئلہ صرف کسی ایک فرد یا ڈونلڈ ٹرمپ تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے کسی بھی خطے اور ملک میں جب کسی شخص کے پاس حد سے زیادہ طاقت اور اختیار آ جاتا ہے تو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا میں اس سے زیادہ سمجھدار اور دانا آدمی کوئی دوسرا ہے ہی نہیں، اس نفسیاتی کیفیت کو ’خبطِ عظمت‘ کہا جاتا ہے، جس میں مبتلا انسان کو یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ صرف وہی درست سمت پر ہے اور باقی تمام دنیا غلطی پر ہے۔
دنیا کے اکثر طاقتور حکمران ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح خبط عظمت کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں انہیں ایسا لگتا ہے کہ اُن سے زیادہ سمجھدار کوئی دوسرا نہیں اور پھر یہی خبط عظمت انکے زوال کا باعث بنتا ہے ایسا صرف ٹرمپ کے ساتھ نہیں ہوا ہر ظالم و جابر کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے https://t.co/IqBBh7hXjh
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) November 5, 2026
ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسی خبطِ عظمت کا شکار ہو گئے تھے، ٹرمپ کا یہ پختہ خیال بن چکا تھا کہ چونکہ وہ دوسری بار امریکہ کے صدر منتخب ہو چکے ہیں، اس لیے ان سے زیادہ باصلاحیت اور سمجھدار شخصیت پوری دنیا میں موجود نہیں ہے، اسی تکبر اور خود پسندی نے انہیں ایسے فیصلوں کی طرف دھکیلا جو ان کے سیاسی زوال کا سبب بنے، ٹرمپ کی پالیسیوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ انہیں اسرائیل کے رہنما بنجامن نیتن یاہو کی طرف سے سیاسی و سفارتی دباؤ اور مبینہ بلیک میلنگ کا سامنا رہا، جس نے ان کے فیصلوں کو شدید متاثر کیا۔
اس کے ساتھ ہی حامد میر نے ایک اور اہم پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت وہیں پر حقیقی معنوں میں مضبوط اور توانا ہوتی ہے جہاں عدلیہ آزاد ہو اور میڈیا بغیر کسی دباؤ کے عوام تک سچ پہنچائے، امریکہ کے حالیہ مڈٹرم الیکشنز کے نتائج نے دنیا بھر پر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ جہاں عوام کے ووٹ کو حقیقی عزت و احترام حاصل ہو، وہاں کے غیور اور باشعور عوام اپنی ووٹ کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی متکبر اور آمرانہ سوچ رکھنے والے حکمران کو اس کی اصل اوقات دکھا سکتے ہیں۔
تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ عوام جب کسی کی ناانصافیوں اور تکبر سے بیزار ہو جاتے ہیں تو وہ بیلٹ باکس کے ذریعے اپنا فیصلہ سناتے ہیں، ٹرمپ کی سوچ اور ان کی اتحادی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردِعمل نے یہ بتا دیا ہے کہ طویل عرصے تک طاقت کے بل بوتے پر عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، انتخابی نتائج نے تکبر کی سیاست کرنے والوں کو ایک واضح پیغام دے دیا ہے کہ اقتدار عارضی ہے اور اصل طاقت ہمیشہ عوام کے پاس رہتی ہے۔
