پنجاب میں اسکول بیگز کا وزن 25 فیصد کم کرنے کے لیے نیا ڈیجیٹل نصاب تیار

لاہور(قدرت روزنامہ)پنجاب حکومت نے پرائمری اسکولوں کے طلبہ کے بستوں کا وزن کم کرنے کے لیے نیا نصاب تیار کر لیا ہے، جس کے تحت موجودہ نصابی کتابوں کا تقریباً 25 فیصد مواد کم کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق نیا نصاب نرسری سے پانچویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اسے آئندہ تعلیمی سال کے آغاز پر یکم اپریل سے پنجاب بھر کے اسکولوں میں متعارف کرانے کا امکان ہے۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق نظرثانی شدہ نصاب کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام میں منتقل کیا جائے گا، جس میں ڈیجیٹل اور تصوراتی تعلیم کو فروغ دیا جائے گا۔ نصاب کا تقریباً 25 فیصد حصہ کیو آر کوڈز اور ویڈیو لیکچرز پر مشتمل ہوگا، جس سے طلبہ کو کم کتابوں کے ذریعے جدید اور مؤثر انداز میں تعلیم حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
حکومت کے اس اقدام کا مقصد کم عمر طلبہ پر تعلیمی دباؤ کم کرنے کے ساتھ ساتھ پرائمری تعلیم کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
دوسری جانب والدین نے بچوں کے بستوں کے بڑھتے ہوئے وزن پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں طلبہ کو لازمی مضامین کے علاوہ انگریزی گرامر اور ریاضی کی اضافی مشقی کتابیں بھی پڑھنا پڑتی ہیں، جبکہ کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید مضامین کے باعث بھی تعلیمی مواد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
والدین کے مطابق اضافی کتابوں، نوٹ بکس، ورک بکس اور معاون تدریسی مواد کی وجہ سے کم عمر بچوں کے اسکول بیگز کا وزن بڑھ گیا ہے، جس سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے نرسری سے پانچویں جماعت تک نصاب پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے۔ نظرثانی شدہ تعلیمی مواد تیار کرکے پروف ریڈنگ کے لیے کیمبرج بھجوا دیا گیا ہے۔
منظوری کے بعد نصابی کتابیں جنوری میں اشاعت کے لیے بھیجی جائیں گی تاکہ نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل طلبہ کو دستیاب ہوسکیں۔
