عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے، بلڈ پریشر 192 تک پہنچ گیا، سلمان اکرم راجا کا دعویٰ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بلڈ پریشر معمول پر نہیں آرہا اور ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔
اسلام آباد میں جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بلڈ پریشر کا مسئلہ مسلسل برقرار ہے، اور ہمیں بتایا گیا تھا کہ جولائی اور اگست میں انہیں بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق تھا جو بعد میں ٹھیک ہو گیا، تاہم سلمان صفدر سے دو روز قبل ہونے والی ملاقات میں عمران خان نے جو تفصیلات بتائیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔
واضح رہے کہ 2 نومبر کو وکیل سلمان صفدر نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی تھی۔ بعد ازاں ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے بتایا تھا کہ 40 منٹ کا دورانیہ تمام مقدمات اور قانونی امور پر تفصیلی گفتگو کے لیے ناکافی تھا کیونکہ دونوں شخصیات کے مقدمات اور دیگر قانونی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کے لیے مزید وقت درکار تھا۔
سلمان اکرم راجا نے اپنی گفتگو میں کہا کہ عمران خان کے مطابق ان کے بلڈ پریشر کی اوپری سطح 192 تک پہنچ گئی ہے اور یہ صورت حال مسلسل پیش آرہی ہے۔ اس سے خدشات پیدا ہوتے ہیں کہ انہیں کیا کھلایا جارہا ہے، کون سی ادویات دی جارہی ہیں اور ان کی دیکھ بھال کس طرح کی جارہی ہے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ موجودہ نظام عمران خان کے ذاتی معالجین کو ان تک رسائی دینے سے گریزاں ہے حالانکہ ان کے ذاتی ڈاکٹر گزشتہ 40 سال سے ان کا علاج کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ذاتی معالجین تک رسائی نہ دینے سے صرف شکوک و شبہات ہی پیدا نہیں ہوتے بلکہ یہ یقین مضبوط ہوتا ہے کہ معاملات ٹھیک نہیں ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ عمران خان کی جان کی حفاظت ہم سب اور پوری قوم کا فرض ہے۔ وہ واضح طور پر قوم کے سامنے یہ بات رکھنا چاہتے ہیں کہ اس وقت عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے۔
’جے یو آئی کے ساتھ بیٹھ کر ملکی مسائل کا حل نکالیں گے‘
سلمان اکرم راجا نے خیبرپختونخوا میں لگائے گئے گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف آواز بلند کرنے پر مولانا فضل الرحمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں جو کچھ انہیں سہنا پڑ رہا ہے وہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے گھر اور ذات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ اس ملک میں جب چاہے کسی کی بھی عزت اچھالنے کو ایک ریت بنا دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ ماہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا تھا، وفاق کا موقف تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں پر عدم تعاون کررہی ہے جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ وہ صوبے میں کسی بھی قسم کے آپریشن کی حمایت نہیں کرتی، کسی بھی اقدام سے قبل اسے اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جس ہم آل پارٹیز کانفرنس کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں وہ قومی یگانگت کی جانب پہلا قدم ہو گا۔ اور پوری قوم نے اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے غلامانہ زندگی جینی ہے یا اپنے وقار کو بحال کرنا ہے۔ پی ٹی آئی اور جے یو آئی اکٹھے بیٹھ کر مسائل کا حل ڈھونڈیں گے۔ جس کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو آئندہ کے لیے لائحہ عمل طے کرے گی جس پر دونوں جماعتیں مل کر چل سکیں۔ پھر ہم ملک کی ہر جمہوریت پسند جماعتوں سمیت دیگر چھوٹی بڑی جماعتوں سے بھی رابطے کریں گے۔
’ملک بچانے کا وقت آ گیا‘
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ وفاق کی جڑوں کو کمزور کیا جا رہا ہے اور اب وقت ہے کہ ہم ملک کو بچائیں۔ جس طرح آزاد کشمیر میں خون بہایا گیا، خیبر پختونخوا میں چار کروڑ سے زائد لوگوں کے مینڈیٹ پر حملہ ہوا ہے، بلوچستان دہائیوں سے لہولہان ہے اور لوگ گمشدہ ہیں، سندھ کا ہاری مضطرب ہے جسے نہیں پتہ کہ اس کے پانی کا مستقبل کیا ہے، پنجاب میں کوئی گھر ایسا نہیں جہاں حق کی آواز اٹھی ہو اور اس پر حملہ نہ ہوا ہو۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم نے اب فیصلہ کرنا ہے کہ اس قوم کے وقار اور شرافت کو کیسے زندہ رکھنا ہے۔ انشاءاللہ ہم کامیاب ہوں گے۔ ہمارا یہ ارادہ اور ایک دوسرے سے وعدہ ہے، پاکستانی قوم سے وعدہ ہے کہ یہ جنگ ہم مل کر لڑیں گے۔
