اسد قیصر نے وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کو پی ٹی آئی کارکنان کے مقدمات کی سماعت سے روکنا انتہائی افسوسناک قرار دے دیا


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) رہنماء پی ٹی آئی اسد قیصر نے وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کو پی ٹی آئی کارکنان کے مقدمات کی سماعت سے روکنا انتہائی افسوسناک قرار دے دیا۔ انہوں نے ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کو پی ٹی آئی کے ان بے گناہ کارکنان کے مقدمات کی سماعت سے روکنا، جنہیں ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک ہے۔
موجودہ حالات میں جب ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی صورتحال سنگین ہو چکی ہے، عوام انصاف کے لیے عدلیہ کا دروازہ نہ کھٹکھٹائیں تو آخر کہاں جائیں۔ یہی طرزِ عمل عوام کا عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں پر اعتماد ختم کرنے کا باعث بن رہا ہے۔
جب ریاستی ادارے طاقتور افراد کے سامنے بے بس دکھائی دیں اور عام شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں درپیش ہوں تو عوام کا ان اداروں سے اعتماد اٹھنا فطری امر ہے۔
آئینِ پاکستان ہر شہری کو پُرامن سیاسی جدوجہد، احتجاج اور اختلافِ رائے کا بنیادی حق دیتا ہے، لیکن اس آئینی حق کو دبانے کے لیے ایم پی او جیسے کالے قانون کا استعمال، عوامی نمائندوں اور عام سیاسی کارکنوں کی غیر قانونی گرفتاریاں اور ان کے گھروں پر چھاپے چادر و چار دیواری کے تقدس کی سنگین پامالی ہیں۔

سیاسی اختلاف کو جرم بنانا اور پُرامن سیاسی جدوجہد کو طاقت کے ذریعے روکنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کا تحفظ اور انہیں بلا امتیاز انصاف کی فراہمی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بے گناہ سیاسی کارکنوں کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں فوری بند کی جائیں، ایم پی او کے تحت گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے اور انہیں انصاف کے حصول کے لیے مؤثر قانونی راستہ فراہم کیا جائے۔ عدلیہ کو عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے اپنے آئینی کردار کو پوری آزادی اور غیر جانب داری کے ساتھ ادا کرنا ہوگا۔
واضح رہے وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ 12 اکتوبر 2026ء یا اس کے بعد پشاور ہائی کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی تمام کارروائیاں معطل رہیں گی، عدالت نے اس معاملے پر تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان سے بھی جواب طلب کر لیا ہے۔چیف جسٹس امین الدین خان نے پشاور ہائی کورٹ کے مختلف ڈویژن بنچز کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیلوں پر چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو سات روز میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں اب سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے مسلح افواج کی موجودگی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔تحریری حکم نامے کے مطابق عدالت ایڈووکیٹ جنرل کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد آئین کے آرٹیکل 245 کی شق (4) کے تحت کارروائیاں معطل رکھنے کے حکم میں ترمیم پر غور کرے گی۔عدالت نے قرار دیا کہ ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی نکات اہم اور سنجیدہ غور و خوض کے متقاضی ہیں جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے آفتاب عالم کیس کے فیصلے کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

WhatsApp
Get Alert