پشتونخوا ملی پارٹی کا صوبائی وزیر کے بھائی پر سنگین الزام: ہرنائی میں فارم 47 کے ذریعے سرکاری ملازمین سے بھتہ وصولی

آدھی تنخواہ بطور بھتہ لی جاتی ہے، انتظامیہ کی جانب سے لوکل شہریوں کو تنگ کرنے کی مذمت


ہرنائی(قدرت روزنامہ)پشتونخوا ملی پارٹی نے ضلع ہرنائی میں ایک سنگین بدعنوانی اور بھتہ خوری کا الزام عائد کیا ہے، جس کے تحت صوبائی وزیر کے بھائی (جو کہ ایک ڈرائیور ہے) پر ضلعی محکموں جیسے لیویز، بی اینڈ آر، زراعت، صحت اور تعلیم کے ملازمین سے “فارم 47” کے ذریعے بھتہ وصول کرنے کا الزام ہے۔
پارٹی نے ضلعی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ اکثر ملازمین سے آدھی تنخواہ بطور بھتہ وصول کی جاتی ہے، اور جو بھتہ نہیں دیتے انہیں تعیناتی کے نام پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پارٹی کے مطابق، ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں سترہ گریڈ کے میڈیکل آفیسر کو ایم ایس تعینات کیا گیا ہے جو ڈبل جاب کرنے والے ملازمین کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
پارٹی رہنماؤں نے ضلعی انتظامیہ پر افغان کڈوال کی آڑ میں لوکل اور قومی شناختی کارڈ رکھنے والے شہریوں کو تنگ کرنے، دکانیں سیل کرنے اور بھاری رقوم رشوت کے طور پر وصول کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ اس کے علاوہ ایک پرائیویٹ این جی او کو بھی فارم 47 کے نمائندے کی جانب سے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ راشن صرف مخصوص ووٹرز اور سپورٹرز میں تقسیم کرے۔
پشتونخوا ملی پارٹی نے ہرنائی سنجاوی روڈ کو تقریباً ایک سال سے بند رکھنے پر بھی شدید تنقید کی ہے، جس سے عوام کو معاشی نقصان، مسافت میں اضافہ، اور کرایہ کئی گنا بڑھنے جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔ پارٹی نے ڈی سی ہرنائی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان تمام مسائل کا فوری نوٹس لیں، بصورت دیگر وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر پہیہ جام، شٹر ڈان اور ڈی سی آفس کے سامنے دھرنے پر مشتمل احتجاج کا اعلان کرے گی۔

WhatsApp
Get Alert