خان شہید کی تحریک محمود اچکزئی کی قیادت میں جاری، ملک میں آئین کی بالادستی، جمہور کی حکمرانی بحال کی جائے، پشتونخواملی عوامی پارٹی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے ضلع کمیٹی کا اجلاس پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر وضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا کی صدارت پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے شہادت کی 52ویں برسی کے موقع پرپارٹی کے زیر اہتمام 2 دسمبر کو ایوب سٹیڈیم فٹبال گراؤنڈ کے جلسہ عام کی تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی اور مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی جو جلسہ گاہ کی انتظامی، استقبالیہ، سیکورٹی، پارکنگ کے انتظامات کی ذمہ داریاں سرانجام دینگے۔ اجلاس میں پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین عبدالرؤف لالا، مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، مرکزی سیکرٹری اطلاعات تالیمند خان، مرکزی ایڈیشنل مالیات سیکرٹری آغا سید لیاقت علی، مرکزی سیکرٹریز ڈاکٹر حامد خان اچکزئی،عبدالحق ابدال، صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان، جنرل سیکرٹری کبیر افغان، صوبائی ایگزیکٹیوز نصیر ننگیال،حبیب الرحمن بازئی، ملک عمر کاکڑ، گل خلجی، سردارادریس بڑیچ، سید فیض اللہ آغا، حضرت عمر ایڈووکیٹ، اقبال خان بٹے زئی، حفیظ ترین، صورت خان کاکڑ نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع کوئٹہ سے مربوط تحصیل کچلاک کی رپورٹ ملک نادر کاکڑ، سٹی تحصیل رپورٹ شکور افغان، صدر تحصیل رپورٹ نعیم پیر علیزئی اور سریاب تحصیل رپورٹ سید عبدالخالق آغا نے پیش۔ اجلاس سے پارٹی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خان شہید کی جدوجہد،قربانیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں، ان کی حقیقی زندگی، جدوجہد، قید وبند کی صعوبتوں کو بھاپنا اور خان شہید کا مطالعہ کرنا نہ صرف پشتونخوامیپ بلکہ ہر سیاسی، جمہوری، قوم دوست، وطن دوست طالب علموں اور نوجوانوں کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر اور پشتونخو اوطن کے عوام کو فرنگی غلامی سے نجات دلانے کے لیے آزادی کی تحریک میں خان شہید کا رول نمایاں رہا ہے۔ ملک کے قیام کے بعد ملک کو آئین دینے، ون مین ون ووٹ، جمہور کی حکمرانی، پاکستان میں متصل پشتون علاقوں پر پشتونوں کے قومی متحدہ صوبے کے قیام کی پاداش میں خان شہیدعبدالصمد خان اچکزئی کو 34سال قید وبند کی سزائیں سنائی گئی۔ ملک کے قیام سے قبل فرنگی استعمار کی سزائیں لیکن ملک کے قیام کے بعد کیونکر سزائیں دی گئی یہ آج بھی تمام جمہوری عوام کے لیے سوالیہ نشان ہے۔خان شہید کی جدوجہد، قومی، سیاسی، جمہوری مطالبات اور جمہوری تحریکوں میں ان کا رہنماء رول برصغیر سے لیکر ان کی شہادت تک جاری رہا۔ قومی، سیاسی، جمہوری مطالبات کی پاداش میں 66سال کی عمر میں 34سال خان شہید کو سزا دینا اور آخر کار شہید کرنے کی منصوبہ بندی کرنیوالوں کا یہ خیال تھا کہ ان کی تحریک ان کی شہادت کے ساتھ ختم ہوجائیگی لیکن خان شہید کی تحریک ان کے عظیم فرزند محمود خان اچکزئی کی شکل میں نہ صرف پشتونخوا وطن کے عوام کی نمائندہ پارٹی بن چکی ہے بلکہ ملک کے جمہوری قوتوں اور جمہوری عوام کی ترجمان کی حیثیت سے صف اول کا کردار ادا کررہی ہے اور پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ملک میں آئین کی بالادستی، جمہور کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی خودمختاری،سیاست میں فوج اور اداروں کی مداخلت کے رول کے خاتمے، قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی جمہوری فیڈریشن کے قیام کے لیے ہر جمہوری تحریک میں صف اول کا کردارادار کرتے ہوئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا وہ چاہے 1983میں ایم آر ڈی کی تحریک، پونم، اے پی ڈی اے، 12مئی عدلیہ کی آزادی یا پی ڈی ایم ہو۔اپنے اصولی، سیاسی،جمہوری موقف پر قائم رہی ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ آج ملک میں اپوزیشن جماعتوں کی سب سے بڑی اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت محمود خان اچکزئی کررہے ہیں اوریہ تحریک ملک کے متفقہ آئین کو تحفظ دینے، جمہور کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی جمہوری فیڈریشن کے قیام، ملک کے سب سے پاپولر لیڈر عمران خان اور دیگر تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، ریاستی زروزور کے ذریعے 8فروری کے انتخابات میں ڈاکہ ڈالا گیا تھا عوام کے مینڈیٹ کو واپس کرنے،فارم 47کی مسلط نام نہاد حکومت کے خاتمے، ملک میں شفاف غیر جانبدارانہ اور ایجنسیوں کی مداخلت کے بغیر انتخابات کے انعقادکے لیے عملی طور پر جدوجہد کررہی ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے ضلع کوئٹہ کے ضلع کمیٹی اور تمام کارکنان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 2دسمبر کا جلسہ عام میں تمام عوام کی شرکت کے لیے بھرپور محنت کرتے ہوئے جو شعار دیئے گئے ہیں ان کے مطابق منظم انداز میں جلوسوں میں فلگ شگاف نعرے لگاتے ہوئے جلسہ گاہ میں شرکت کرے۔

WhatsApp
Get Alert