پاکستان اسٹیبلشمنٹ کی جاگیر، صدر اور وزیراعظم منشی کی حیثیت رکھتے ہیں، ہم فاتح نہیں مفتوح قوم ہیں: مولانا محمد خان شیرانی

کراچی/کوئٹہ ( ڈیلی قدرت ) رہبر جمعیت مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد امت مسلمہ میں نظام اور قانون کے حوالے سے اجتماعیت کا فقدان ہے، اور آج کی دنیا میں مسلمانوں کی حیثیت فاتح کی نہیں بلکہ مفتوح قوم کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ دارالعلوم اسلامیہ واٹر پمپ کراچی میں جمعیت طلبا اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ”شعور و آگاہی اجتماع“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مولانا شیرانی نے کہا کہ ہمارا یہ خطہ انگریز کا مفتوحہ علاقہ ہے اور پاکستان بھی برٹش کامن ویلتھ کا رکن ہے جس کی سربراہی برطانوی شاہی خاندان کرتا ہے۔ انہوں نے ملک کی موجودہ حیثیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک بین الاقوامی چوک کی مانند ہے جسے برطانیہ نے کرائے پر چھوڑا ہوا ہے، یہاں علما کے فتوے، سیاستدانوں کا قوم کو بیوقوف بنانا، جرنیلوں کا فوج کو استعمال کرنا اور میڈیا کا پروپیگنڈا سب کرائے پر دستیاب ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نام کا ملک ہے مگر درحقیقت یہ اس اسٹیبلشمنٹ کی جاگیر ہے جسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے تشکیل دیا تھا۔ یہاں صدر، وزیراعظم، گورنر اور پارلیمنٹ کی حیثیت جاگیردار کے منشیوں اور نائبین جیسی ہے، جن کا کام عوام سے بٹائی وصول کر کے جاگیردار کے سامنے پیش کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ تو حکمرانوں سے پوچھ سکتی ہے کہ دولت کہاں سے آئی، مگر خود اسٹیبلشمنٹ سے کوئی سوال نہیں کر سکتا کیونکہ وہ خود کو مالک سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک مغربی اقوام کی ایک فوجی چھاؤنی ہے اور چھاؤنی کا فائدہ اسی میں ہے کہ خطے کو خطرناک اور جھگڑالو بنا کر پیش کیا جائے تاکہ اس کے وجود کا جواز باقی رہے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا گل نصیب خان نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ مذہب کے نام پر لڑایا گیا اور مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، حالانکہ دنیا میں لڑائی مذاہب کے درمیان نہیں بلکہ اقتدار، اختیار اور وسائل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اشتراکات کو سامنے رکھیں گے تو امن قائم ہوگا اور اگر اختلافات کو ہوا دیں گے تو انتشار بڑھے گا۔ اجتماع سے نور احمد سندھی، مولانا محمود الحسینی، مفتی سلیم شاہ، محمد نواز آزاد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
