78 سال سے قومی سلامتی کے نام پر تماشا ہو رہا ہے، ڈھول بجانے والا کوئی اور، ناچنے والا کوئی اور ہے: حافظ حمداللہ
حکومتیں قومی سلامتی کی ہی رہتی ہیں، پارلیمنٹ کی بالادستی کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا: دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب

کوئٹہ ( ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما مولانا حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں جسے بھی اقتدار کی کرسی پر بٹھایا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اسی میں قومی سلامتی ہے مگر کچھ عرصہ بعد جب اسی کو ہٹایا جاتا ہے تو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ قومی سلامتی اسی میں ہے، یہ سلسلہ گزشتہ 78برس سے جاری ہے اور قومی سلامتی کے نام پر ملک و قوم کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں جامعہ و مدرسہ محمدی دارالعلوم زکریا کے سالانہ دستارِ فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا حافظ حمداللہ نے کہا کہ اگر آج یہ سوال کیا جائے کہ حکومت کس کی ہے یا رہی ہے تو اس کا بہترین جواب یہی بنتا ہے کہ حکومتیں ہمیشہ قومی سلامتی کی ہی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر اقتدار کسی اور کے ہاتھ میں ہوتا ہے جبکہ اصل فیصلے کہیں اور سے ہوتے ہیں اسی صورتحال کو ہائبرڈ نظام کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اس نظام کو تمثیلی انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ڈھول بجانے والا کوئی اور ہو اور ناچنے والا کوئی اوریہاں بھی دربار سجا ہوا ہے اور درباری ناچ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اصل مالک 25 کروڑ عوام ہیں اور اگر واقعی حکمرانوں کو قومی سلامتی عزیز ہے تو عوام کی منتخب پارلیمنٹ کی بالادستی (سپریمسی)کو بحال کیا جائے بصورت دیگر یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ملک اس وقت ہائبرڈ نظام کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ مولانا حافظ حمداللہ نے کہا کہ جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے بغیر نہ تو قومی سلامتی قائم ہو سکتی ہے اور نہ ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
