ریاست کبھی تھکتی نہیں، پاکستان کو کیک کی طرح تقسیم کرنے کا خواب دیکھنے والے ناکام ہوں گے: سرفراز بگٹی

نوجوانوں کے سخت ترین سوالات کا جواب دلیل سے دوں گا، سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست اور عوام میں فاصلے پیدا کیے گئے: وزیراعلیٰ بلوچستان


3200 بند سکول فعال کردیئے، دنیا کی بہترین جامعات میں پی ایچ ڈی کے دروازے کھول دیئے ہیں: نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل اور قوم کا اصل سرمایہ ہیں، نسلِ نو کو درست تاریخی حقائق اور قومی بیانیے سے آگاہ کرنا ناگزیر ہے۔ پاکستان ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ریاست ہے اور ہمیشہ قائم و دائم رہے گا، ریاست کبھی تھکتی نہیں، پاکستان کو کیک کی طرح تقسیم کرنے کا خواب دیکھنے والے ناکام ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اٹھارویں بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان میں ریاست نے کبھی طاقت کے اندھا دھند استعمال کی پالیسی اختیار نہیں کی، محدود اور ہدفی کارروائی کو ریاستی آپریشن کہنا حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے متعلق پھیلائے گئے تصورات اور زمینی حقائق میں واضح فرق کو سمجھنا ضروری ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے منظم جھوٹے بیانیے پھیلا کر نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے پیدا کیے گئے ہیں، ذہنی فریب اور منظم بھرتی کے ہتھکنڈوں سے نوجوانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ تشدد اور انتشار کے ذریعے ریاست کو کمزور کرنے کے خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوں گے۔

میر سرفراز بگٹی نے نوجوانوں کو پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر تعلیمی ادارے، ہر جامعہ اور ہر قومی فورم پر نوجوانوں سے مکالمے کے لیے تیار ہیں اور نوجوانوں کے سخت سے سخت سوالات کا جواب دلیل، مکالمے اور حقائق کی بنیاد پر دیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان بغیر تحقیق کسی بھی منفی بیانیے کی اندھی تقلید کے بجائے مثبت اور سچ پر مبنی سوچ اپنائیں۔ صوبائی حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں مؤثر طرزِ حکمرانی کا عملی ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے کیونکہ ناقص طرزِ حکمرانی ریاست مخالف جبکہ بہتر حکمرانی ریاستی استحکام کی ضامن ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں 3200 سے زائد بند اسکول دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں جبکہ متعدد پسماندہ علاقوں میں قیامِ پاکستان کے بعد پہلی بار بنیادی طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام کو بلوچستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تعلیمی اسکالرشپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت سویلین شہداء کے बच्चों، اقلیتوں اور خواجہ سرا افراد کو بھی اسکالرشپس دی جا رہی ہیں۔ اب بلوچستان کا ہر طالب علم سائنسی مضامین میں دنیا کی اعلیٰ جامعات سے تعلیم حاصل کر سکتا ہے اور دو سو سے زائد عالمی جامعات میں پی ایچ ڈی کے لیے مواقع کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ بلوچستان کی بہتری کے لیے آخری دن، آخری گھڑی اور آخری لمحے تک کام کرتے رہیں گے۔

WhatsApp
Get Alert