جمعیت علماء اسلام کسی کی جاگیر نہیں، نہ ہی وراثت کے طور پر استعمال ہونے دیں گے، مولانا محمد خان شیرانی


کوئٹہ (قدرت روزنامہ): جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کسی فرد کی جاگیر نہیں اور نہ ہی پارٹی کو وراثت کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن سے ان کا کوئی ذاتی اختلاف نہیں بلکہ اختلافات اصولی اور نظریاتی ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ جب 2008 میں مولانا فضل الرحمن نے پارٹی کے ساتھ اپنا نام شامل کیا تو ہم نے جمعیت علماء اسلام کو اس کے اصل نظریات اور اصولوں کے مطابق چلانے کی پالیسی اختیار کی، جو آج تک برقرار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ انہوں نے کوئی گروپ بنایا اور نہ ہی اختلاف کی بنیاد پر علیحدگی اختیار کی، بلکہ وہ کل بھی اسی جماعت میں تھے اور آج بھی اسی جماعت کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان شروع دن سے ایک نظریاتی جماعت رہی ہے، جس میں اس کے اصل اور نظریاتی کارکن شامل ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ اس جماعت کو اسی نام اور اسی تشخص کے مطابق چلایا جائے۔ تاہم، ان کے بقول مولانا فضل الرحمن نے اس جماعت کو اپنی جاگیر اور وراثت سمجھتے ہوئے جمعیت علماء اسلام پاکستان کے بجائے جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمن گروپ) کے نام سے چلانا شروع کیا، جس پر انہوں نے پارٹی کے اندر رہتے ہوئے اصولی موقف اختیار کیا۔
مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ انہوں نے واضح کیا تھا کہ یہ جماعت کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں، اور اسے اس انداز میں نہیں چلایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے اصولی موقف سے مولانا فضل الرحمن نے اتفاق نہیں کیا، اس لیے انہوں نے جماعت کے نظریات اور اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسی جماعت کے اندر کام جاری رکھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے نہ تو پارٹی چھوڑی ہے اور نہ ہی کوئی نیا گروپ بنایا ہے، بلکہ وہ شروع دن سے جس جماعت میں شامل تھے آج بھی اسی کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کچھ لوگ شخصیت کے نام پر جماعت چھوڑ کر چلے گئے ہیں تو ان کا ان سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ لوگ ان کی جماعت کا حصہ ہیں۔

WhatsApp
Get Alert