3 مسائل پر تنازع ہونے کے باوجود بنیادی معاملات پر بہت زیادہ ہم آہنگی موجود ہے نائب امریکی صدر جے ڈی وینس

واشنگٹن(قدرت روزنامہ)امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ لبنان امریکی اور ایرانی جنگ بندی کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہے، اور نہ ہی واشنگٹن یا اسرائیل نے اس پر کسی قسم کی رضامندی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے لبنان کو جنگ بندی میں شامل کرنے کی بات کے بعد اسرائیل نے تقریباً 100 فضائی حملے کیے، جن میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے۔
وینس نے مذاکرات کے دوران ابھرتے ہوئے چند اختلافات پر بھی بات کی اور کہا کہ اگرچہ کچھ نکات پر تنازع موجود ہے، زیادہ تر معاملات پر فریقین کا اتفاق پایا جاتا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ مذاکرات کے دوران ایک 15 نکاتی منصوبہ یا 10 نکاتی منصوبہ گردش کر رہا ہے، اور 3 مسائل پر تنازع ہونے کے باوجود یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بنیادی معاملات پر بہت زیادہ ہم آہنگی موجود ہے۔
US Vice President JD Vance says Lebanon isn’t part of the US‑Iran ceasefire and urged restraint, after Pakistan said it was included and Israel carried out about 100 attacks that killed hundreds across Lebanon. pic.twitter.com/1mii3RASIw
— Al Jazeera Breaking News (@AJENews) April 9, 2026
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات مذاکرات کے دوران بیانات کی وضاحت مشکل ہو جاتی ہے اور کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں، لیکن یہ جزوی غلط فہمیاں ہیں اور بنیادی طور پر سب درست راستے پر ہیں۔ وینس نے جنگ بندی کے بعد ہونے والے حملوں کی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایرانی اور اسرائیلی اقدامات کے بعد خلیجی ممالک نے بھی ردعمل دیا، اور یہ جنگ بندی کے دوران معمولی پیچیدگیوں کی مثال ہے۔
وینس نے زور دیا کہ مقصد واضح ہے: بمباری کو روکنا اور تمام فریقوں کے لیے امن قائم رکھنا، اور انہوں نے کہا کہ ایران کو بھی مذاکرات کے تحت متعدد نکات قبول کرنے ہوں گے، لیکن امریکا کے پاس مضبوط موقف ہے اور وہ اس کا مؤثر استعمال کرے گا۔
