احتجاج کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ افہام و تفہیم اور بات چیت کے ذریعے ہی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے،وزیرداخلہ میر ضیاء لانگو


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو کی زیر صدارت کاریزات کے مسئلے پر حکومتی کمیٹی اور عمائدین کے مذاکراتی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں کاریزات اور ہیڈکوارٹر کے حوالے ے مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، ارکانِ صوبائی اسمبلی زمرک خان اچکزئی اور اصغر خان ترین، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ، ایڈیشنل کمشنر آغا سمیع اللہ،ڈپٹی کمشنر پشین ،تصیلدارا سمیت دیگر قبائلی عمائدین اور معتبرین نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران معتبرین کی جانب سے کاریزات کے مسئلے کے حل کے لیے مختلف تجاویز اور سفارشات پیش کی گئیں۔ حکومتی کمیٹی نے ان تجاویز کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام سفارشات تحریری شکل میں جمع کروائی جائیں تاکہ انہیں باقاعدہ طور پر بالا حکام تک پہنچایا جا سکے۔اس موقع پر وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے کہا کہ کاریزات کے مسئلے، اس کی بحالی اور نئے ضلع سے متعلق تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے مسئلے کا قابلِ عمل حل نکالیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے اعتماد کے ساتھ پیش رفت کی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے معتبرین پر زور دیا کہ وہ اپنی تجاویز جلد از جلد تحریری صورت میں حکومتی کمیٹی کو پیش کریں تاکہ آئندہ اجلاس میں ان پر فیصلہ کرنا آسان ہو۔میر ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ تمام سفارشات وزیر اعلیٰ بلوچستان کو پیش کی جائیں گی ۔اور ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ افہام و تفہیم اور بات چیت کے ذریعے ہی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert