طالبات کے امتحانی مراکز میں مرد افسران کا غیر ضروری قیام قابلِ تشویش، بورڈ کی انتظامی کمزوریاں طالبات کی پرائیویسی کو متاثر کر رہی ہیں، والدین کا صوبائی حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)ایف اے اور ایف ایس سی کے سالانہ امتحانات کے دوران بورڈ آفس اور محکمہ تعلیم کے بعض مرد افسران کی جانب سے طالبات کے امتحانی مراکز میں غیر ضروری اور طویل قیام پر والدین، اساتذہ اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تشویش اور ردعمل سامنے آیا ہے۔ شکایات کے مطابق بعض افسران معائنہ کے بہانے امتحانی مراکز میں دو سے تین گھنٹے تک موجود رہتے ہیں، جس سے نہ صرف طالبات کو ذہنی دبا کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ مقامی روایات اور اخلاقی اقدار بھی مجروح ہو رہی ہیں۔ والدین نے کہا ہے کہ امتحانات جیسے حساس ماحول میں طالبات کی پرائیویسی، عزت نفس اور یکسوئی کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے، مگر افسوس کہ بعض عناصر کی غیر ذمہ دارانہ روش نے پورے نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معائنہ کے لیے واضح ایس او پیز بنائے جائیں اور طالبات کے مراکز میں صرف خواتین افسران کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی بے چینی یا بداعتمادی پیدا نہ ہو۔ سماجی و تعلیمی حلقوں نے اس صورتحال کو نہایت افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے منفی اثرات نہ صرف تعلیمی ماحول بلکہ معاشرتی اقدار پر بھی مرتب ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امتحانی نظام کی شفافیت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کے وقار اور تحفظ کو بھی اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔والدین اور شہریوں نے وزیر اعلی اور صوبائی وزیر تعلیم سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار افسران کے خلاف تحقیقات کر کے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور آئندہ کے لیے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے، تاکہ طالبات کو ایک محفوظ، باوقار اور پرامن امتحانی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
