ٹرمپ کی پوسٹ میں بھارت جہنم کا گڑھا قرار، بھارتی وزارتِ خارجہ کا سخت ردعمل

واشنگٹن (قدرت روزنامہ)(امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھارت سے متعلق پوسٹ کرنے پر نئی سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے، جس پر بھارتی حکام نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اُن کے بیانات کو بے بنیاد اور نامناسب قرار دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ تنازع اُس وقت سامنے آیا جب امریکی قدامت پسند پوڈکاسٹر مائیکل سیویج کے ریڈیو شو دی سیوج نیشن کی ایک قسط میں بھارت اور چین سمیت دیگر ممالک سے آنے والے تارکین وطن کے بارے میں سخت تبصرے کیے گئے۔

اس پوسٹ میں پیدائش پر شہریت کے حق کے قانون پر شدید تنقید کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ’لوگ حمل کے نویں مہینے میں امریکا آ جاتے ہیں اور (پیدائش کے فوری بعد) بچہ امریکی شہری بن جاتا ہے۔ اور پھر وہ چین یا بھارت یا زمین پر موجود کسی اور جہنم (جہنم جیسے مقام) سے پورا خاندان امریکا لے آتے ہیں۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اور اس بات کا مشاہدہ کرنے کے لیے آپ کو زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں یعنی امریکا میں اب انگریزی نہیں بولی جاتی۔ آج کے دور میں آنے والے تارکینِ وطن کی اکثریت میں امریکا کے ساتھ وفاداری تقریباً ناپید ہے، حالانکہ ایسا ہمیشہ نہیں تھا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے امریکا میں پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کے لیے ایک حکم نامہ جاری کیا، جسے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں وہ اس معاملے پر ہونے والی سماعت میں بھی شریک ہوئے تھے۔

تاہم اس معاملے پر بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کی رات ان ریمارکس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات واضح طور پر غیر مناسب ہیں۔

ترجمان بھارتی وزارتِ خارجہ رندھیر جیسوال نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ریمارکس بھارت اور امریکا کے تعلقات کی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے، جو طویل عرصے سے باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔

نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے اس حوالے سے مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے کہا ہے کہ بھارت ایک عظیم ملک ہے جس کے سربراہ کے ساتھ ان کی بہت اچھی دوستی ہے۔

دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس بیان کو انتہائی توہین آمیز اور بھارت مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہر بھارتی کو تکلیف پہنچاتا ہے۔

کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اب تک خاموش کیوں ہیں، اُنہیں یہ معاملہ امریکی صدر کے سامنے اٹھانا چاہیے اور سخت احتجاج ریکارڈ کرانا چاہیے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں تقریباً 5.5 ملین بھارتی نژاد افراد آباد ہیں، جبکہ بھارتی اور چینی نژاد امریکی ایشیائی برادری کے دو بڑے گروہ ہیں۔

ادھر ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان پہلی مدتِ صدارت میں تعلقات خوشگوار رہے تھے، تاہم گزشتہ برس بھارت پر بعض بلند امریکی ٹیرف عائد ہونے کے بعد تعلقات میں سرد مہری آئی، جن میں سے کئی ٹیرف بعد ازاں اس سال واپس لے لیے گئے۔

دونوں ممالک اس وقت ایک تجارتی معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد نئے ٹیرف کے اضافے کو روکنا اور باہمی تجارت کو فروغ دینا ہے۔

WhatsApp
Get Alert