بلوچستان ہائی کورٹ کا لیڈا میں بھرتیوں کا اشتہار معطل، سیکرٹری انڈسٹریز اور ایم ڈی ذاتی حیثیت میں طلب
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور توہینِ عدالت کی درخواست پر سخت برہمی، سرکاری اداروں کو قانون کے دائرے میں رکھنے کے لیے کارروائی کا عندیہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت)بلوچستان ہائی کورٹ کے خضدار بنچ(مقام کوئٹہ)نے لسبیلہ انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (لیڈا)میں بھرتیوں کے حالیہ اشتہار کو معطل کرتے ہوئے سیکرٹری انڈسٹریز اور مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی)لیڈا کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے عدالت میں اس کیس کی سماعت کے دوران ایک اور اہم پیش رفت بھی سامنے آئی، جہاں سبحان علی اور دیگر 10 امیدواروں کی جانب سے دائر توہینِ عدالت کی درخواست نمبر 02/2026 پر بھی غور کیا گیا۔ درخواست گزاروں نے مقف اختیار کیا کہ حکام نے عدالت کے واضح احکامات کے باوجود نئی بھرتیوں کا اشتہار جاری کر کے عدالتی حکم کی صریح خلاف ورزی کی ہیدرخواست گزاروں کے وکیل سید ظہور آغا ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے 22 مئی 2025 کو آئینی درخواست نمبر C.P No. 56/2025 میں ایک واضح حکم جاری کیا تھا، جس میں متعلقہ بھرتیوں کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی گئی تھی۔ ان کے مطابق اس حکم کے باوجود دوبارہ اشتہار جاری کرنا نہ صرف عدالتی احکامات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے بلکہ یہ کھلی توہینِ عدالت بھی ہے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور فوری طور پر بھرتیوں کے جاری کردہ اشتہار کو معطل کر دیا۔ مزید برآں عدالت نے سیکرٹری انڈسٹریز اور ایم ڈی لیڈا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ اپنے مقف کی وضاحت کر سکیں عدالتی ذرائع کے مطابق اس کیس کو نہایت اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اس کا تعلق نہ صرف سرکاری بھرتیوں میں شفافیت سے ہے بلکہ عدالتی احکامات کی پاسداری سے بھی ہے۔ اگر حکام کی جانب سے خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ان کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ توہینِ عدالت کے مقدمات میں عدالتیں عموما سخت موقف اختیار کرتی ہیں تاکہ عدالتی فیصلوں کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے اور سرکاری اداروں کو قانون کے دائرے میں رکھا جا سکے یہ کیس آئندہ سماعت میں مزید اہم موڑ اختیار کر سکتا ہے، جہاں متعلقہ حکام کی پیشی اور وضاحت کے بعد عدالت اگلے لائحہ عمل کا تعین کرے گی۔
