کم کھانے کے باوجود لوگ موٹاپے کا شکار کیوں ہوجاتے ہیں؟ نئی تحقیق میں اہم وجہ دریافت

نیویارک(قدرت روزنامہ)موٹاپا دنیا بھر میں وبا کی طرح پھیل رہا ہے جو متعدد دائمی امراض بشمول ذیابیطس، کینسر اور دیگر کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔
ویسے تو خیال کیا جاتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ غذا کا استعمال موٹاپے کا باعث بنتا ہے مگراب ماہرین نے اس کی ایک بڑی وجہ کو دریافت کیا ہے۔
زیادہ کھانے یا ورزش نہ کرنے سے ہٹ کر آپ کا روزگار بھی اس حوالے سے کردار ادا کرتا ہے۔
یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
جسمانی وزن میں کمی کیلئے روزانہ کتنے قدم چلنا چاہیے؟
کوئنز لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو افراد زیادہ گھنٹوں تک کام کرتے ہیں، ان میں موٹاپے کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے جبکہ کام کے دورانیے میں کمی لانے سے جسمانی وزن کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
اس تحقیق میں 1990 سے 2022 کے دوران انجمن اقتصادی تعاون و ترقی (او ای سی ڈی) کے 33 ممالک میں موٹاپے کے پھیلاؤ اور کام کرنے کے رویوں کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن ممالک میں لوگوں کے کام کرنے کے اوقات طویل ہوتے ہیں، وہاں موٹاپے کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق کام کے دورانیے میں محض ایک فیصد کمی سے ہی موٹاپے کی مجموعی شرح میں 0.16 فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ طویل وقت تک کام کرنے کے باعث لوگوں کے پاس ورزش کے لیے وقت نہیں ہوتا جبکہ دفتری تناؤ جسم کی اندرونی گھڑی کو متاثر کرتا ہے جس سے جسمانی وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ تناؤ سے ایک ہارمون کورٹیسول کی سطح بڑھتی ہے جس کے باعث جسم میں زیادہ چربی ذخیرہ ہونے لگتی ہے اور طویل دفتری اوقات کے باعث لوگوں کے پاس توانائی کو جلانے کا وقت نہیں ہوتا۔
محققین نے بتایا کہ اگر لوگ متوازن زندگی گزاریں تو صحت کو بھی فائدہ ہوتا ہے، ان کو تناؤ کا کم سامنا ہوتا ہے، وہ صحت کے لیے مفید غذاؤں پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں جبکہ جسمانی طور پر زیادہ متحرک رہتے ہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ تحقیق میں وجہ کو تو ثابت نہیں کیا جاسکا مگر طویل دفتری اوقات اور موٹاپے کے درمیان تعلق ضرور نظر آتا ہے۔
کئی برس پہلے فالج جیسے مرض کا عندیہ دینے والی 3 عام ترین نشانیاں
اس تحقیق کے نتائج یورپین کانگریس آن اوبیسٹی کے سالانہ اجالس کے موقع پر پیش کیے گئے۔
اس سے قبل جون 2024 میں برطانیہ کی Exeter یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ موٹاپے کی وجوہات بہت پیچیدہ ہیں اور زیادہ تر کیسز میں متعدد عناصر کا امتزاج اس حوالے سے کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ہمارے جینز بھی موٹاپے کا شکار بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس تحقیق کے لیے یو کے بائیو بینک سے لاکھوں افراد کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا اور دیکھا گیا کہ ان کے جینز جسمانی وزن میں اضافے کے لیے کس حد تک کردار ادا کرتے ہیں۔
نتائج میں ایک مخصوص جین ایس ایم آئی ایم 1 کو دریافت کیا گیا جو موٹاپے کا شکار بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔
اس جین کی 2 ناقص نقول جن خواتین کے اندر موجود ہوتی ہیں، ان کا جسمانی وزن دیگر خواتین کے مقابلے میں اوسطاً 4.6 کلو گرام زیادہ ہوتا ہے جبکہ مردوں کا جسمانی وزن 2.4 کلوگرام زیادہ ہوتا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جین کی ناقص نقول سے تھائی رائیڈ کے افعال گھٹ جاتے ہیں اور توانائی بھی کم خرچ ہوتی ہے جس کے نتیجے میں کم کھانے پر بھی جسم میں زیادہ چربی جمع ہونے لگتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا کہ یہ جینیاتی میوٹیشن ہر 5 ہزار میں سے ایک فرد میں پائی جاتی ہے۔
محققین نے بتایا کہ ویسے تو اسے نایاب تصور کیا جا سکتا ہے مگر دنیا کی 8 ارب آبادی کو مدنظر رکھا جائے تو یہ تعداد کافی زیادہ ہو جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جسمانی وزن میں اضافے کے حوالے سے متعدد عناصر کردار ادا کرتے ہیں، جن میں سے کچھ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور کچھ کو نہیں۔
