پیٹرول کی قیمتیں کب کم ہوں گی؟ خواجہ آصف نے بڑی خوشخبری سنا دی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے اللہ نہ کرے کہ جنگ لمبی ہو، جب جنگ ختم ہو گی حالات بہتر اور مہنگائی کم ہو گی۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے شہریوں پر بوجھ پڑا ہے، جوں ہی جنگ کا مستقل حل نکلے گا، یہ قیمتیں معمول پر آ جائیں گی۔

صحافی نے سوال کیا پیٹرول لیوی میں اتنا اضافہ کیا گیا ہے شہری کہہ رہے ہیں اگر سارا ٹیکس پیٹرول کے ذریعے لینا ہے تو ایف بی آر ختم کر دیں، جس پر خواجہ آصف نے جواب دیا یہ تو آپ فلمی ڈائیلاگ کہہ رہے ہیں،پیٹرول کے ریٹ میں اضافہ ہوا عوام پر بوجھ پڑا ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن پیٹرول کی قیمتیں پوری دنیا میں بڑھی ہیں،یہ سب ایران اور امریکہ کے جنگ کی صورتحال کے اثرات ہیں۔

نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین جاتے ہوئے 2 گھنٹے کے لیے پاکستان میں قیام کریں۔گزشتہ 1 سال کے دوران پاکستان نے وہ تاریخی سنگ میل عبور کیے ہیں جن کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ پاکستان اس وقت امریکہ اور برادر اسلامی ملک ایران کے درمیان ایک اہم سٹریٹجک ثالث اور دفاعی پارٹنر کے طور پر کام کر رہا ہے، جس کی بدولت جنگ بندی ممکن ہوئی ہے۔اس پائیدار امن کے ثمرات سعودی عرب، خلیجی ممالک، وسطی ایشیائی ریاستوں، شام اور مصر سمیت پوری مسلم امہ تک پہنچیں گے اور خطے کے عوام سکھ کا سانس لیں گے۔

وفاقی وزیر نے مزید انکشاف کیا کہ ایسی اطلاعات بھی گردش کررہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ چین کے دوران چند گھنٹوں کے لیے پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں، جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ثبوت ہے۔اس وقت دنیا کا کوئی بھی ملک مزید دشمنی یا جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ عالمی سطح پر مہنگائی اور تیل کی فراہمی کے بحران نے معیشتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اب یورپ کے رویئے میں بھی بڑی تبدیلی آئی ہے اور وہ دشمنی کے بجائے مفاہمت اور امن کی بات کر رہے ہیں جبکہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔پاکستان اب ایک محفوظ متبادل تجارتی اور سفارتی گیٹ وے کے طور پر اپنی جگہ بنا چکا ہے اور ان شاء اللہ دشمنیوں کے اس خاتمے سے ملک و قوم کے لیے خوشحالی کے نئے راستے کھلیں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں’’ جیو نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ہم اس دہشت گردی کے نتیجے میں بہنے والے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے، ہم اس دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کر سکتے ہیں۔بنوں پولیس چوکی پر حملہ انتہائی افسوس ناک ہے، اتنی احسان فراموشی انسانی تاریخ میں کبھی سامنے نہیں آئے گی جتنی ضمیر فروشی افغانستان نے کی۔جس طرح معرکۂ حق میں بھارت کے ساتھ ہوا اسی طرح افغانستان کے ساتھ ہو گا، بھارت اور افغانستان کی سرپرستی میں سرحد پار سے دہشت گرد آرہے ہیں، بھارت کی سرپرستی میں یہ پراکسی وار افغانستان کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔وزیراعظم نے کل وزیر اعلیٰ کے پی کے سے بات کی اور ہمدردی کا اظہار کیا، یہ کسی ایک صوبے کی جنگ نہیں بلکہ سارے پاکستان کی جنگ ہے، دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کرنے تک قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔

WhatsApp
Get Alert