عیت علماء اسلام اب تک انتہائی صبر، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کررہی ہے، لیکن اگر حکومت نے اس معاملے میں سنجیدگی نہ دکھائی اور قاتلوں کو گرفتار نہ کیا تو عوامی ردعمل کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ — مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے کارکنان اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ملک بھر میں سب سے زیادہ مہذب، باکردار، باشعور اور تربیت یافتہ ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا ہر کارکن دلیل، منطق، شعور اور اعلیٰ اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے جماعت کے مؤقف اور بیانیے کو عوام تک پہنچاتا ہے۔ اس پْرفتن دور میں جہاں سوشل میڈیا پر گالم گلوچ، کردار کشی، انتشار اور جھوٹے پروپیگنڈے کو فروغ دیا جارہا ہے، وہاں جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ شائستگی، برداشت، فکری پختگی اور مثبت سیاسی روایات کو فروغ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وقت کے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جمعیت علماء اسلام نے ایک منظم، فعال اور مؤثر ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف جماعتی بیانیے کو مضبوط انداز میں عوام تک پہنچایا جائے گا بلکہ ہر کارکن کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا باقاعدہ جائزہ اور احتساب بھی کیا جائے گا تاکہ کوئی بھی فرد جماعت کی تعلیمات، اخلاقیات اور نظم و ضبط سے روگردانی نہ کرسکے۔ جمعیت علماء اسلام اپنے کارکنوں کو صرف سیاسی جدوجہد ہی نہیں بلکہ اخلاق، کردار، برداشت اور ذمہ دارانہ اظہارِ رائے کی بھی تربیت دیتی ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ الحمدللہ آج جمعیت علماء اسلام ہر ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر انتہائی مؤثر، شائستہ اور مضبوط انداز میں موجود ہے۔ جماعت کے نوجوان، سوشل میڈیا ٹیمیں اور ڈیجیٹل میڈیا ایکٹوسٹ اپنی شب و روز محنت سے جماعت کے نظریات، قائدین کے پیغام اور عوامی جدوجہد کو دنیا بھر تک پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے تمام سوشل میڈیا کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ 4 جون کو پشین میں منعقد ہونے والی عظیم الشان تاریخی کانفرنس کی تشہیر و اشاعت کیلئے دن رات ایک کردیں، تاکہ بلوچستان کی سرزمین ایک بار پھر جمعیت علماء اسلام کے عظیم الشان عوامی سمندر کی گواہ بنے۔انہوں نے کہا کہ 4 جون کا پشین کانفرنس صرف ایک سیاسی جلسہ نہیں بلکہ یہ بلوچستان کے عوام کے احساسات، حقوق، دینی و قومی تشخص، جمہوری جدوجہد اور ظلم و ناانصافی کے خلاف ایک بھرپور عوامی ریفرنڈم ثابت ہوگا۔ لاکھوں عوام کی شرکت یہ پیغام دے گی کہ بلوچستان کے باشعور عوام آج بھی جمعیت علماء اسلام کی قیادت پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔دریں اثناء مولانا عبدالواسع نے چارسدہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ممتاز عالم دین، شیخ الحدیث والقرآن کی فاتحہ خوانی کی اور ان کے اہل خانہ، متعلقین اور شاگردوں سے دلی اظہارِ تعزیت کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شیخ صاحب کی المناک شہادت ناقابلِ بیان صدمہ اور درد ہے۔ ان کے ساتھ ذاتی، علمی اور روحانی تعلقات تھے اور آج ان کی جدائی سے خود کو تنہا محسوس کررہا ہوں۔ ان کی رحلت صرف ایک خاندان یا مدرسے کا نقصان نہیں بلکہ پورے ملک، بالخصوص بلوچستان کیلئے ایک عظیم سانحہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جس انداز میں عوام سڑکوں پر نکل آئے، قاتلوں کی گرفتاری کیلئے احتجاج کیا اور غم و غصے کا اظہار کیا، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام اپنے علماء اور دینی قیادت سے والہانہ محبت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے ایک منظم سازش کے تحت جمعیت علماء اسلام کے ممتاز علماء ، خطباء اور دینی شخصیات کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔مولانا عبدالواسع نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شیخ صاحب کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اب تک انتہائی صبر، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کررہی ہے، لیکن اگر حکومت نے اس معاملے میں سنجیدگی نہ دکھائی اور قاتلوں کو گرفتار نہ کیا تو عوامی ردعمل کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ علمائ کرام اور دینی شخصیات کے خلاف سازشیں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی، اور جمعیت علماء اسلام ہر فورم پر اپنے اکابرین، مدارس اور دینی قوتوں کے تحفظ کیلئے آواز بلند کرتی رہے گی۔
