لکپاس سانحہ، حفاظتی غفلت اور ناقص نگرانی نے 50 افراد کو اسپتال پہنچا دیا — ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈپٹی کمشنر مستونگ، ایف سی کے ونگ کمانڈر اور اسسٹنٹ کمشنر سریاب بھی معمولی زخمی


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ )مستونگ کے علاقے لک پاس میں واقع کسٹمز گودام میں لگنے والی ہولناک آگ پر طویل جدوجہد کے بعد قابو پا لیا گیا ہے، تاہم اس واقعے میں زخمیوں کی تعداد 50 تک پہنچ گئی ہے۔ پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق گودام میں ایل پی جی، ایندھن اور دیگر کیمیائی مواد کی موجودگی کے باعث آگ نے شدید نوعیت اختیار کر لی تھی، جس کے دوران کئی زور دار دھماکے بھی سنے گئے۔ ریسکیو آپریشن میں پی ڈی ایم اے کے 30 ریسکیورز، 13 ایمبولینسز اور فائر ٹرکس کے ساتھ ساتھ ایف سی اور ضلعی انتظامیہ نے حصہ لیا۔آپریشن کے دوران ایک ایل پی جی باوزر میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈپٹی کمشنر مستونگ، ایف سی کے ونگ کمانڈر اور اسسٹنٹ کمشنر سریاب بھی معمولی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ اسپتال ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 50 زخمیوں کو سول اسپتال، بی ایم سی اور شیخ زید اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں برن یونٹ میں زیرِ علاج چند مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، جبکہ بقیہ زخمیوں کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔آتشزدگی کے باعث حفاظتی اقدامات کے طور پر بند کی گئی کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو آگ پر قابو پانے کے بعد ہر قسم کی ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جس سے مسافروں اور ٹرانسپورٹرز نے سکھ کا سانس لیا۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ غفلت یا تکنیکی خرابی کے پہلوں کا تعین کیا جا سکے۔ فی الوقت جائے وقوعہ پر کولنگ کا عمل جاری ہے اور سیکیورٹی اداروں نے اطراف میں نگرانی سخت کر دی ہے۔

WhatsApp
Get Alert