زمینداروں سے فی گاڑی پر 15 ہزار روپے وصولی کا نوٹس لیا جائے، سردار یار محمد رند

کوئٹہ (روزنامہ آزادی) سینئر سیاستدان سابق وفاقی وصوبائی وزیر سردار یار محمد رند نے ضلع اوستہ محمد کے زمینداروں سے محکمہ فوڈ کے حکام کی جانب سے فی گاڑی پر 15 ہزار روپے وصولی کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت، کمشنر نصیر آباد ڈویژن، ڈپٹی کمشنر اوستہ محمد اور متعلقہ حکام سے اس غیر قانونی اقدام کا فوری نوٹس لینے اور مذکورہ حکام کے خلاف تحقیقات کرکے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زمیندار طبقہ پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ہے اور حکومت ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔ جس کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اوستہ محمد کے زمینداروں کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
سردار یار محمد رند نے کہا کہ اوستہ محمد کے زمینداروں نے شکایت کی ہے کہ محکمہ فوڈ کے اہلکار مبینہ طور پر زمینداروں سے فی گاڑی 15 ہزار روپے غیر قانونی طور پر وصول کر رہے ہیں۔ اگر کوئی زمیندار یہ رقم دینے سے انکار کرتا ہے تو اسے سرکاری یا کم قیمت پر گندم فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ سرکاری اختیارات کا غلط استعمال اور بلوچستان کے زمینداروں کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ زمینداروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے برابر ہے۔ صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ ہے کہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے صاف اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ اگر کوئی اہلکار ملوث ہے تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی سرکاری اہلکار ایسا گھناؤنا کام کرنے کی جرات نہ کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات، کھاد، بیج اور دیگر زرعی لوازمات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے زمیندار پہلے ہی پریشان ہیں۔ ایسے اقدامات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ زمینداروں کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔
