برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے استعفیٰ دے دیا

کنگ چارلس کو اپنے اس فیصلے سے مطلع کر دیا ہے، لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی نئے قائد کے انتخاب کا عمل شروع کرے، کاغذاتِ نامزدگی 9 جولائی سے جمع کروائے جا سکیں گے؛ کیئر اسٹارمر کا ویڈیو بیان


لندن(قدرت روزنامہ)برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی ہی جماعت لیبر پارٹی کے اندر سے شدید اور مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد بالآخر ٹیلی ویژن پر براہِ راست خطاب کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ عالمی میڈیا کے مطابق کیئر اسٹارمر کا یہ بڑا فیصلہ ان کے سیاسی حریف اینڈی برنم کی جانب سے نارتھ ویسٹ انگلینڈ میں ضمنی الیکشن کے دوران پارلیمنٹ کی نشست پر حاصل کی جانے والی فیصلہ کن فتح کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جب کہ 63 سالہ سابق وکیل اور لیبر پارٹی کے سربراہ کیئر اسٹارمر حالیہ چند ماہ میں متعدد پالیسیوں، فیصلوں اور مختلف اسکینڈلز کے باعث برطانوی ووٹرز اور عوامی سرویز میں اپنی مقبولیت بری طرح کھو چکے تھے۔
ٹیلی ویژن پر براہِ راست خطاب کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ انہوں نے کنگ چارلس کو اپنے اس فیصلے سے باقاعدہ مطلع کر دیا ہے، انہوں نے لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے قائد کے انتخاب کا عمل شروع کریں، جس کے لیے کاغذاتِ نامزدگی 9 جولائی سے جمع کروائے جا سکیں گے۔
بتایا جارہا ہے کہ سال 2024ء کے عام انتخابات میں کیئر اسٹارمر نے کنزرویٹو پارٹی کے 14 سالہ اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے، 1997ء کے بعد لیبر پارٹی کو تاریخ کی سب سے بڑی پارلیمانی اکثریت دلوائی تھی، مگر وہ اس عوامی مینڈیٹ کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے، اپنے استعفے کے ساتھ ہی کیئر اسٹارمر نے لیبر پارٹی کی نئی قیادت کے انتخاب کے لیے باقاعدہ ٹائم ٹیبل کا بھی اعلان کر دیا ہے، جس سے برطانیہ میں نئے وزیرِ اعظم کی دوڑ شروع ہو گئی۔

WhatsApp
Get Alert