پاکستان میں سود سے پاک مالیاتی نظام نافذ کرنے کی حکمتِ عملی تیار


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)حکومتِ پاکستان نے ملک میں سود سے پاک مالیاتی و بینکنگ نظام کے مکمل نفاذ کے لیے ایک جامع اور تفصیلی حکمتِ عملی کا اعلان کر دیا، وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اس اسٹریٹیجک پلان کے تحت نئے نظام کی جانب منتقلی مرحلہ وار اور بتدریج کی جائے گی تاکہ ملک کا مالیاتی استحکام برقرار رہے اور معیشت کو کسی بھی قسم کے بڑے تعطل یا جھٹکے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
جیو نیوز کے مطابق وزارتِ خزانہ کی طرف سے اہم ترین رپورٹ “2027 کے بعد پاکستان کے مالیاتی نظام سے متعلق حکمتِ عملی” جاری کی گئی ہے، رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سود سے پاک مالیاتی نظام کے نفاذ کا یہ جدید تصور وفاقی شرعی عدالت کے سال 2022ء کے تاریخی فیصلے اور آئینِ پاکستان میں کی جانے والی 26 ویں ترمیم کے تناظر میں تیار کیا گیا ہے، تاہم حکومت نے دو ٹوک مؤقف اپنایا ہے کہ اس حساس نظام کی جانب منتقلی کو تدریجی رکھا جائے گا تاکہ قومی معیشت پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کام کرنے والے روایتی بینکوں کو اسلامی مالیات کے بین الاقوامی اور شرعی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تربیتی پروگرام شروع کیے جا چکے ہیں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی کو بھی سال 2027ء کے بعد مکمل طور پر شریعت کے اصولوں کے مطابق مرتب اور نافذ کیا جائے گا۔ وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ اس وقت حکومت کے ذمہ موجود روایتی سرکاری قرضوں کو شرعی مالیاتی ذرائع میں تبدیل کرنا انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوگا، اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک باقاعدہ “اثاثہ رجسٹری کمپنی” کے قیام، نئے شرعی ‘سکوک بانڈز’ کے اجرا اور دیگر جدید اسلامی مالیاتی ذرائع کو اس نئی حکمتِ عملی کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا ہے، اس معاشی مشن کی کامیابی کے لیے دسمبر 2027ء تک تمام وفاقی اور صوبائی قوانین میں ضروری اور مطلوبہ ترامیم کرنا انتہائی ناگزیر ہوگا، جس پر کام شروع کر دیا گیا ہے، 2027ء کے بعد اس سود سے پاک نظام کا عملی نفاذ مارکیٹ کے خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کی رفتار پر منحصر ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert