سونے اور چاندی کی قیمتیں آسمان سے زمین پر کیسے آئیں؟ مزید کتنا سستا ہوگا؟ وجوہات اور مستقبل کا منظر نامہ جانیں

کراچی (قدرت روزنامہ) ساتویں آسمان کو پہنچی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تین ماہ میں بڑی کمی کیسے ہوئی مزید کتنا سستا ہوگا اہم تجزیہ سامنے آ گیا۔
سونے اور چاندی کی قیمتیں جو رواں برس کے آغاز میں ساتویں آسمان کو چھو رہی تھیں، صرف تین ماہ میں اس میں اتنی گراوٹ آئی کہ سب حیران ہیں۔
رواں ماہ کی پہلی سہ ماہی میں سونے کی عالمی قیمت ساڑھے 5 ہزار ڈالر فی اونس جب کہ پاکستان میں فی تولہ 5 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔ اب عالمی سطح پر 4 ہزار ڈالر فی اونس اور پاکستان میں 4 لاکھ 19 ہزار پر پہنچ چکی ہیں۔ اسی طرح چاندی جو مقامی سطح پر 12 ہزار روپے فی تولہ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی تھی، اب 6 ہزار کے قریب آ چکی ہے۔
سونے اور چاندی کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ اور پھر کمی کیوں ہوئی؟ اے آر وائی نیوز کے پروگرام آن مائے ریڈار میں میزبان کامران خان سے گفتگو کرتے ہوئے سی ای او ٹاپ لائن سیکیورٹیز محمد سہیل نے اس کی وجوہات بتا دیں۔
محمد سہیل نے کہا کہ دو تین سال پہلے تک سونے کی قیمت 2 ہزار ڈالر فی اونس تھی۔ 2026 کے شروع میں یہ ساڑھے پانچ ہزار اور اب گر کر 4 ہزار ڈالر تک آ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اچانک نمایاں کمی جہاں ایران جنگ اور عالمی مہنگائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکا سمیت دنیا بھر میں انٹرسٹ ریٹ بڑھنا ہے، جس کے باعث لوگوں نے سرمایہ سونے اور چاندی سے نکال کر فکس انکم میں لگایا۔ ڈالر بھی اب مستحکم ہو رہا ہے، اس لیے لوگ سونا چاندی بیچ کر دھڑا دھڑ ڈالر خرید رہے ہیں۔
محمد سہیل نے سونے کی قیمتوں میں گراوٹ کو مشرق وسطیٰ کی جنگی صورتحال سے بھی جوڑا اور بتایا کہ سرمایہ کاروں کو پتہ تھا کہ اب تیل کی قیمتیں بڑھیں گی تو انہوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے سونے اور چاندی سے پیسہ نکال کر تیل اور فرٹیلائزر کے شعبوں میں لگایا۔
سونے اور چاندی کی قیمتیں ساتویں آسمان تک کیسے پہنچیں؟
اس کی وجہ بتاتے ہوئے ماہر تجزیہ کار نے بتایا کہ کووڈ 19 کے بعد جب ڈیجیٹلائزیشن شروع ہوئی تو بہت بڑی تعداد میں نیو جنریشن اس فیلڈ میں آئی، جن کے فیصلے غیر حقیقی بنیادوں پر سوشل میڈیا یا اے آئی کے مشورے پر ہوتے ہیں۔
اس دور سے ہی چیزوں کی قیمتیں اچانک بڑھنا اور پھر گرنا شروع ہوئیں، صرف سونا اور چاندی ہی نہیں بٹ کوائن کو بھی دیکھیں تو ایک سال میں اس کی قیمت آدھی ہو چکی ہے۔ اسی غیر حقیقی بنیادوں پر صرف قیاس آرائیوں پر بھیڑ چال کی طرح اوور ٹریڈنگ کا رجحان بڑھا، جو سونے اور چاندی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کا سبب بنا۔
ایران جنگ کافی حد تک ختم ہو چکی ہے، اس لیے اب سونے میں سرمایہ کاری کا رجحان بھی کافی کم ہو گیا ہے۔ دوسری جانب امریکا سمیت دنیا میں رسک پرییمیم کے کم اور انٹرسٹ کے مزید بڑھ جانے کی امید اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے منفی ثابت ہو سکتی ہے۔
محمد سہیل کا کہنا تھا کہ اگر امریکا میں انٹرسٹ ریٹ چار اور ساڑھے چار فیصد کے درمیان ہی رہتا ہے تو پھر سونے میں سرمایہ کاری میں کسی سرمایہ کار کے لیے کوئی کشش نہیں۔
ایران سے حالات نارمل ہوتے ہی سرمایہ کار یا تو فکس انکم میں سرمایہ کاری کرے گا یا پھر اس کے لیے نیا بوم اے آئی ٹیکنالوجی ہے، اس طرف جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو سونے اور چاندی کی قیمتیں مزید گر سکتی ہیں۔
