ہنہ اوڑک میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری، 3 ہلاک؛ اغواء ہونے والے 7 افراد کی بازیابی کے لیے فورسز ایکشن میں ہیں، وزیر داخلہ بلوچستان


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو اور معاون برائے وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ رات دہشتگردوں نے ہنہ اوڑک کے محب وطن لوگوں پر حملہ کیا، تاہم علاقہ مکینوں نے دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انہیں بھاگنے پر مجبور کیا۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ حملے کے دوران دہشتگرد 7 مقامی افراد کو اغواء کرکے لے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر سیکیورٹی فورسز کا دہشتگردی کے خلاف آپریشن پوری قوت سے جاری ہے، جس کے دوران اب تک 3 دہشتگرد مارے گئے ہیں جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 اے ٹی ایف اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، علاقے میں چیک پوسٹ قائم کردی گئی ہے اور فورسز فل ایکشن میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کا مقصد عوام کو خوفزدہ کر کے ہنہ اوڑک خالی کرانا ہے۔ مظاہرین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمارے اپنے ہیں اور ہم ان کے جذبات کا مکمل احترام کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مظاہرین سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جس کی سربراہی وہ خود کر رہے ہیں اور یہ کمیٹی مظاہرین سے باقاعدہ مذاکرات کرے گی۔ سینیٹر منظور کاکڑ کے بیان پر انہوں نے کہا کہ وہ ان کے ذاتی خیالات ہو سکتے ہیں، میں نے خود گزشتہ رات ہنہ اوڑک کا دورہ کیا ہے۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ دہشتگردوں کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے اور افغانستان انہیں اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کی وزارتوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مخلوط حکومت ہے، مسلم لیگ ن جسے چاہے وزارت دے یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔
اس موقع پر معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے بتایا کہ ہنہ اوڑک میں سینیٹائزیشن آپریشن کیا جائے گا اور جب تک علاقہ مکمل کلیئر نہیں ہو جاتا آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے انتباہ جاری کیا کہ واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert