مہنگائی کا طوفان، کوئٹہ میں آٹے کی قیمت میں مزید 400 روپے کا ہوشربا اضافہ؛ ضلعی انتظامیہ غائب

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں اشیائے خور و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان آٹے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد عام شہریوں، خصوصا کم آمدنی والے طبقے کے لیے روزمرہ ضروریات پوری کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق شہر میں مختلف اقسام کے آٹے کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا ہے، جس سے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
تازہ مارکیٹ معلومات کے مطابق 20 کلوگرام آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 3,200 روپے تک پہنچ گئی ہے، جو چند روز قبل کے مقابلے میں 400 روپے زیادہ ہے۔ اسی طرح فی کلو آٹے کی قیمت میں تقریبا 20 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث روزانہ آٹا خریدنے والے صارفین بھی شدید مالی دبا کا شکار ہیں۔
اسی طرح مارکیٹ میں 50 کلوگرام آٹے کا تھیلا تقریبا 7,000 روپے جبکہ 100 کلوگرام آٹے کی بوری 14,000 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ مختلف برانڈز اور کوالٹی کے لحاظ سے قیمتوں میں معمولی فرق موجود ہے، تاہم مجموعی طور پر آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
شہریوں نے آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ہی بجلی، گیس، پٹرول، چینی، گھی، دالوں، سبزیوں اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، جبکہ اب آٹے کی مہنگائی نے زندگی مزید دشوار بنا دی ہے۔خواتین، مزدوروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ گھریلو اخراجات پورے کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق اگر بنیادی غذائی شے یعنی آٹا بھی مسلسل مہنگا ہوتا رہا تو غریب اور متوسط طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔فلور ملز اور آٹا ڈیلرز سے وابستہ بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ گندم کی خریداری، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات،اور گندم مہنگی قیمتوں میں اضافے اور دیگر پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ۔
دوسری جانب شہریوں نے حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور سرکاری نرخوں پر آٹے کی دستیابی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو مزید مہنگائی کے بوجھ سے بچایا جائیں ۔
