ہنہ اوڑک واقعہ انسانیت سوز جرم، وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہیں؛، ممبر بلوچستان بار کونسل راحب خان بلیدی کا دھرنے کی حمایت کا اعلان

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین اور سابق رکن جوڈیشل کمیشن آف پاکستان، ممبر بلوچستان بار کونسل راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے ہنہ اوڑک کوئٹہ میں پیش آنے والے دہشت گردی کے المناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں کا بے دردی سے قتل ایک انسانیت سوز اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ اس دہشت گرد حملے میں دس سے زائد بے گناہ افراد کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے۔ دہشت گردی کی ایسی کارروائیاں نہ صرف پاکستان کے آئین کی روح کے خلاف ہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی اور آئینی حقِ زندگی پر بھی کھلا حملہ ہیں۔ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور دہشت گرد عناصر کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔
راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد صحتِ کاملہ نصیب کرے اور متاثرہ خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔انہوں نے ہنہ اوڑک کے عوام اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے ایئرپورٹ روڈ پر دیے گئے پرامن دھرنے کو عوام کے آئینی اور جمہوری حق کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے دھرنے کی مکمل حمایت کی اور کہا کہ موجودہ صوبائی و وفاقی حکومتیں عوام کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں۔ شہری آبادی اور مقامی لوگوں کے اغوا اور ان کی شہادت سے عوام میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے قبائل کی جانب سے جاری دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
