تاریخی شناخت مٹانے کی کوشش کے خلاف ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر ’ قلات ڈویژن کا نام تبدیل کرنے کا حکومتی فیصلہ چیلنج ’


قلات(ڈیلی قدرت کوئٹہ) قلات ڈویژن کا نام تبدیل کرنے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ ریاستِ قلات کے تاریخی تشخص کی بقا اور بقائے باہمی کے لیے یہ اہم آئینی درخواست محمد ادریس ایڈووکیٹ نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی ہے۔
آئینی درخواست میں حکومتِ بلوچستان کے حالیہ نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا ہے، جس کے تحت قلات ڈویژن کا نام تبدیل کر کے خضدار ڈویژن رکھا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتظامی سہولت کے لیے نئے ڈویژنز کا قیام خوش آئند ہے، لیکن صدیوں پرانی تاریخی ریاست اور خطے کے لاکھوں عوام کی پہچان ‘قلات’ کا نام سرکاری نقشے اور ریکارڈ سے مٹانا ایک سنگین تاریخی ناانصافی ہے۔
درخواست گزار نے مزید کہا کہ ریاستِ قلات اس خطے کی قدیم ترین ریاست ہے جس نے قیامِ پاکستان اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ دنیا بھر میں بسنے والی بلوچ اقوام کی شناخت قلات سے وابستہ ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 28 (ثقافت و شناخت کا تحفظ) اور آرٹیکل 14 (وقارِ انسانی) کی صریح خلاف ورزی ہے۔
آئینی درخواست میں حکومتِ بلوچستان بذریعہ چیف سیکرٹری، صوبائی کابینہ، پرنسپل سیکرٹری ٹو چیف منسٹر اور سیکرٹری ریونیو کو فریق بنایا گیا ہے اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشن کو غیر آئینی قرار دے کر قلات ڈویژن کا نام فوری بحال کیا جائے۔

WhatsApp
Get Alert