اسلام آباد کو مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگا؛ موجودہ حکومت میں شامل افراد حقیقی جیالے یا مسلم لیگی نہیں: ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ
طاقت اور مقدمات سے مسائل حل نہیں ہوں گے؛ وسائل پر اختیار، حقِ حاکمیت اور عوام کا مینڈیٹ تسلیم کیا جائے

بارڈرز کی بندش سے 25 لاکھ افراد نانِ شبینہ کے محتاج ہو گئے؛ معاشی سرگرمیوں کو محض اسمگلنگ کہہ کر مسترد نہیں کیا جا سکتا: سابق وزیراعلیٰ
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں موجودہ حکومت میں شامل بعض افراد حقیقی طور پر نہ تو پیپلز پارٹی کے جیالے ہیں اور نہ ہی مسلم لیگ کے دیرینہ کارکن، بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں سے آنے والے افراد نے وفاداریاں تبدیل کر کے اقتدار میں جگہ بنائی ہے، جس سے حقیقی اور نظریاتی کارکنوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ اسلام آباد کو بلوچستان کے بارے میں اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے عوام کو ان کا آئینی حقِ ووٹ، حقِ حاکمیت اور اپنے وسائل پر اختیار دیا جائے، بصورت دیگر مسائل مزید پیچیدہ ہوتے جائیں گے۔
نجی ٹی وی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سیاسی صورتحال، امن و امان، بارڈر کی بندش اور حکومت سازی پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو 1973 کے آئین کے مطابق چلایا جائے، 18ویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور این ایف سی ایوارڈ کے اصولوں کو نافذ کیا جائے۔ اگر عوام کے منتخب نمائندوں کے بجائے کوئی اور ادارے صوبے اور ملک کے معاملات چلائیں گے تو حالات کبھی بہتر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں حقیقی مینڈیٹ رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے جبکہ موجودہ حکومت میں شامل بعض جماعتوں کو عوام کی اکثریت کا مینڈیٹ ہی حاصل نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب ہمارے بڑے ہیں، ان کی جماعت کو صوبے میں 14 نشستیں حاصل ہیں اور اپوزیشن لیڈر بھی ان ہی کی جماعت سے ہیں۔ بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت روز بروز کمزور ہو رہی ہے جس پر شاہد خاقان عباسی سمیت کئی سینئر سیاستدان موجودہ حکومتی پالیسیوں سے مایوس ہو کر خاموش بیٹھے ہیں۔
صوبے میں بدامنی اور حالیہ احتجاج کے حوالے سے سابق وزیراعلیٰ نے زیارت اور ہنہ اوڑک کے واقعات کا ذکر کیا جن میں 25 کے قریب افراد شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آرز درج کرنے اور طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوں گے، سیاسی مسائل کا حل صرف سیاسی مذاکرات اور جمہوری عمل میں پوشیدہ ہے۔
بارڈرز کی بندش کے سنگین معاشی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ چمن، تفتان، پنجگور، ماشکیل اور گوادر سمیت مختلف بارڈر پوائنٹس کی بندش سے 20 سے 25 لاکھ افراد کا روزگار چھن گیا ہے اور لاکھوں خاندانوں کے چولہے بجھ گئے ہیں۔ بارڈر تجارت کو محض اسمگلنگ کہہ کر مسترد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ نسلوں سے ان خاندانوں کی بقا کا ذریعہ ہے۔ اگر حکومت غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا چاہتی ہے تو قانونی تجارت کے منظم راستے کھولے اور عوام کو متبادل روزگار فراہم کرے۔
انہوں نے اپنی آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی چاروں صوبوں میں اپنا سیاسی کام جاری رکھے گی اور جہاں جہاں سیاسی اسپیس دستیاب ہے، وہاں سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلی میں اپنا بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کر کے عوام کے مسائل اجاگر کرتی رہے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت کے استعمال یا سیاسی انجینئرنگ میں نہیں بلکہ حقیقی جمہوریت اور صوبائی خودمختاری میں مضمر ہے۔۔
