بلوچستان : شاہراہوں پر بدامنی؛ ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کا سامان کی ترسیل بند کرنے کا اعلان
گاڑیاں نذر آتش، سامان لوٹا جا رہا ہے، : میر نواب مینگل تحفظ کی فراہمی تک ہڑتال جاری رہے گی، اشیائے ضروریہ کی قلت کا خدشہ: عبدالرحیم کاکڑ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان، گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور پرچون گڈز ایسوسی ایشن نے بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر امن و امان کی خراب صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹرانسپورٹر رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی کے باعث ٹرانسپورٹ کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ خضدار سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے تفتان تک قومی شاہراہیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں، جس کے باعث سامان کی ترسیل اور مسافروں کا سفر خطرے میں پڑ گیا ہے۔
میر نواب مینگل نے کہا کہ نامعلوم مسلح افراد مختلف مقامات پر گاڑیاں روک کر سامان قبضے میں لے رہے ہیں۔ متعدد واقعات میں سامان اتارنے کے بعد گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا، جبکہ بعض واقعات میں ڈرائیوروں اور مالکان سے تاوان بھی طلب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گڈز گاڑیاں، ٹرک، کنٹینرز، آئل ٹینکرز اور دیگر ٹرانسپورٹ محفوظ نہیں رہی، جس سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ حکومت فوری طور پر قومی شاہراہوں پر مؤثر سیکیورٹی انتظامات کرے اور اغوا، بھتہ خوری و دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ٹرانسپورٹر رہنماؤں نے بتایا کہ بدامنی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث متعدد گڈز کمپنیوں نے اپنی سروسز معطل کر دی ہیں اور مؤثر تحفظ کی فراہمی تک لوڈنگ بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
عبدالرحیم کاکڑ نے کہا کہ دو روز قبل اعلان کیا گیا تھا کہ تحفظ فراہم ہونے تک ہڑتال جاری رہے گی، مگر حکومت کی جانب سے اب تک کوئی سنجیدہ رابطہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو تجارتی سرگرمیاں مزید متاثر ہوں گی اور عوام کو اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے آرمی چیف، چیف جسٹس پاکستان، کور کمانڈر بلوچستان اور دیگر حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قومی شاہراہوں پر ریاستی رٹ قائم کی جائے، ٹرانسپورٹرز کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور متاثرہ افراد کے نقصانات کا ازالہ یقینی بنایا جائے۔
