کوئٹہ میں واٹر ٹینکر مافیا کی ہڑتال چوتھے روز میں داخل، حکومت بحران کے حل میں مکمل طور پر ناکام شدید گرمی میں پانی نایاب، ٹینکر 8 ہزار کا ہوگیا، ضلعی انتظامیہ بلیک مارکیٹنگ روکنے سے قاصر
شہری بوند بوند کو ترس گئے، واسا اور حکومت کی مجرمانہ غفلت پر عوام میں شدید غم و غصہ، فوری مداخلت کا مطالبہ

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں واٹر ٹینکر ایسوسی ایشن کی ہڑتال مسلسل چوتھے روز بھی جاری ہے، جس کے باعث شہر بھر میں پانی کی فراہمی کا نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ ہڑتال کے باعث ہزاروں خاندان شدید مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ شدید گرمی اور حبس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ پینے، کھانا پکانے، وضو، نہانے اور دیگر روزمرہ ضروریات کے لیے پانی دستیاب نہ ہونے کے باعث شہری سخت پریشانی میں مبتلا ہیں شہر کے بیشتر علاقوں میں نجی واٹر ٹینکرز کی عدم دستیابی نے پانی کے بحران کو انتہائی تشویشناک شکل دے دی ہے۔
دوسری جانب چند نجی افراد کی جانب سے محدود تعداد میں پانی کے ٹینکر انتہائی مہنگے داموں فروخت کیے جا رہے ہیں، جس سے شہریوں کا معاشی بوجھ کئی گنا بڑھ گیا ہے یو این ایکے مطابق کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹان میں ایک بڑا پانی کا ٹینکر 8 ہزار روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں سریاب روڈ، جوائنٹ روڈ، ارباب کرم خان روڈ، ڈبل روڈ، سرکی روڈ، میکانگی روڈ، پٹیل روڈ، جناح ٹان اور شہباز ٹان سمیت دیگر علاقوں میں چھوٹے پانی کے ٹینکر 3 ہزار سے 3500 روپے تک بلیک میں فروخت کیے جا رہے ہیں، حالانکہ عام حالات میں یہی ٹینکر اس سے کہیں کم قیمت پر دستیاب ہوتے تھے ۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ واٹر ٹینکر ایسوسی ایشن کی ہڑتال نے انہیں شدید اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی گھروں میں پانی کے ذخائر مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں جبکہ خواتین، بزرگ اور بچے پانی کی ایک ایک بوند کے لیے پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔
متعدد علاقوں میں لوگ گھنٹوں تک پانی کی تلاش میں مختلف مقامات کے چکر لگا رہے ہیں لیکن انہیں مطلوبہ مقدار میں پانی دستیاب نہیں ہو رہا شدید گرمی کی موجودہ لہر نے بھی عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بلند درجہ حرارت میں جسم کو زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم پانی کی قلت کے باعث شہری صحت کے مسائل سے بھی دوچار ہو سکتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید چند روز برقرار رہی تو پانی کا بحران انسانی المیے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
متاثرہ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض عناصر ہڑتال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پانی مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں اور انتظامیہ اس بلیک مارکیٹنگ کو روکنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں عوام نے حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ، واسا اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واٹر ٹینکر ایسوسی ایشن کے ساتھ فوری مذاکرات کر کے ہڑتال ختم کرائی جائے اور پانی کی سپلائی بحال کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی جیسی بنیادی ضرورت کی عدم دستیابی ناقابل برداشت ہو چکی ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کرے۔
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں ہر سال گرمیوں کے موسم میں پانی کی قلت شدت اختیار کر لیتی ہے، تاہم اس بار واٹر ٹینکر ایسوسی ایشن کی مسلسل ہڑتال نے بحران کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پانی کی فراہمی کے لیے مستقل اور مثر منصوبہ بندی کرے تاکہ مستقبل میں عوام کو اس طرح کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پانی کی سپلائی جلد بحال نہ ہوئی اور مصنوعی مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو عوامی احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو چکی ہے اور پانی کی قلت شہریوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔
