بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر دہشتگردوں کا راج، ٹرانسپورٹرز پر حملے اور ٹرکوں کو نذرآتش کرنے کے واقعات، کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں اشیاء خوردونوش کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ
حکومت کی رٹ ختم، منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی لوٹ مار شروع، عوام نے ریلیف فراہم کرنے اور ترسیل کو جاری رکھنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کر دیا

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان کے مختلف قومی شاہراہوں پر ٹرانسپورٹروں پر حملے اور ٹرکوں کو نذرآتش کرنے کے واقعات بعد کوئٹہ سمیت بلوچستان مختلف اضلاع میں اشیاء خوردونوش اور خاص کر آٹے کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ جس سے اب منافع خوروں اور سود خوروں نے ذخیرہ اندوزی بھی شروع کردیا تاکہ مہنگا ہونے پر یہ اشیاء مارکیٹ میں لا کر مہنگے داموں فروخت کیا جاسکے حکومت وقت اپنی رٹ قائم کرنے کی بجائے ایسا لگتا ہے کہ ان کے بس سے تمام چیزیں باہر ہو چکی ہے عوامی حلقوں نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اگر عوام کو ریلیف فراہم نہیں کرسکتے تو کم ازکم ذخیرہ اندوزوں اور اشیاء خوردونوش کی ترسیل کو جاری کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ ایک بار پھر منافع خور اور ذخیرہ اندوزناجائز فائدہ نہ اٹھاسکے واضح رہے کہ اس وقت بلوچستان کے مختلف قومی شاہراہوں پر دہشتگردوں کا راج ہے ہر طرف ٹرانسپورٹرز کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے اور ٹرکوں کو نذرآتش کی جاتی ہے ساتھ میں ڈرائیوروں کو شہید جس سے ایک طرف خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے دوسری جانب ٹرانسپورٹرز اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہوئے اکثر ٹرانسپورٹرز نے گاڑیاں اپنی گھروں میں کھڑی کیے اور بعض نے احتجاج کرتے ہوئے ٹرکوں کو باہر نہ نکالنے کا اعلان کیا اس صورت میں بلوچستان آنے والے دنوں میں اشیاء خوردونوش سے محروم ہونے کا خدشہ ہے اور آج کے آٹے کی بوری اگر تین ہزار میں ملتی ہے تو پھر یہی آٹا دس ہزار تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ ایک طرف آٹے کی ترسیل بند ہوئی اور دوسری جانب ذخیرہ اندوز میدان میں آکر اشیاء کومہنگے داموں فروخت کررہے ہیں۔
