بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے، مولانا ہدایت الرحمن


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)جماعت اسلامی بلوچستان کے رہنما مولانا ہدایت الرحمن نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اور حکومتی ذمہ داریوں کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عام لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے باغ، گلی یا بازار میں کون چھپا ہوا ہے، اس لیے ذمہ داری کا تعین کرتے وقت توازن سے کام لینا چاہیے۔
اپنے بیان میں مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ اگر ایک باغ کا مالی یا باغ کا مالک باغ کے اندر موجود صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے تو پھر بلوچستان کے مالک اور حکمران بھی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ 80 ارب روپے لیتے ہیں، کیا وہ ذمہ دار نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ وی آئی پی گاڑیاں لینے والے اور حکومتی وسائل استعمال کرنے والے افراد سے بھی ان کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جانا چاہیے۔
مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ ایک طرف باغ کے مالک کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب اربوں روپے کے وسائل حاصل کرنے والوں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا، اس لیے امن و امان کے معاملے پر ذرا متوازن بات کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں کی ذمہ داریوں اور اختیارات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

WhatsApp
Get Alert